پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو نہ صرف عسکری میدان میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی دنیا بھر میں خفت اٹھانی پڑی ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ نے اپنی تازہ رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ پاک بھارت حالیہ کشیدگی میں پاکستان کو سفارتی میدان میں واضح کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی اور عالمی سطح پر مدبرانہ سفارتی حکمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر تیار ہے۔ جریدے نے واضح کیا کہ عسکری محاذ پر بھارت کی جارحیت ناکامی سے دوچار ہوئی جبکہ بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے بھی پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا۔

مزید پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص: پاک فوج کی پٹھان کوٹ کو ٹارگٹ کرنے کی ویڈیو منظرعام پر

’دی ڈپلومیٹ‘نے لکھا کہ پاکستان نے عالمی اصولوں اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کو سنبھالا بلکہ سیاسی بصیرت کے ذریعے عالمی حمایت بھی حاصل کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کے باوجود، وہ پہلگام حملے میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاک چین دفاعی اشتراک نے بھارتی فضائیہ کو شدید نقصان پہنچایا، اور رافیل طیاروں کی تباہی عالمی سطح پر بھارت کے لیے باعثِ شرمندگی بنی۔

’دی ڈپلومیٹ‘ کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی حکمتِ عملی، قومی قیادت کی یکسوئی اور عالمی سفارتی حمایت نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ پاکستان نے ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کیا، جبکہ بھارت نے یکطرفہ اقدامات اور الزام تراشی کے ذریعے اپنا مقدمہ کمزور کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا پاک بھارت جنگ پہلگام ٹرمپ ڈی ڈپلومیٹ رافیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاک بھارت جنگ پہلگام رافیل کہ پاک

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار