سندھ طاس معاہد ے کی معطلی غیر نونی ،اصل شکل میں بحال سمجھتے ہیں : پاکستان کا بھارت کو خط : ختم نہیں ہوسکتا : صدر عالمی بنک
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد‘لندن‘جنیوا‘نئی دہلی (خبر نگار +نوائے وقت رپورٹ +آئی این پی+این این آئی+نیٹ نیوز ) پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ معطلی کے اقدام پر بھارت کو خط لکھ دیا۔ پاکستان نے اپنے خط میں بھارت کے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کو غیرقانونی قرار دیدیا۔ وفاقی سیکرٹری آبی وسائل سید علی مرتضیٰ کی طرف سے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا گیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔ بھارتی خط میں معطلی سے متعلق استعمال کئے گئے الفاظ کا معاہدے میں وجود ہی نہیں۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کو اپنی اصل شکل میں قائم سمجھتا ہے۔ معاہدے میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ چھیڑخانی کی گنجائش نہیں۔سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارت کی گیدڑ بھبکیوں پر عالمی بنک بھی بول پڑا۔ رپورٹ کے مطابق صد عالمی بنک اجے بانگا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا جا سکتا‘ معاہدے میں معطلی کی اجازت کی شق نہیں، معاہدے میں عالمی بنک کا کردار سہولت کار کا ہے۔صدر عالمی بینک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار ثالث کا نہیں، یہ سب باتیں بے معنی ہیں کہ عالمی بنک اس مسئلے کو کیسے حل کرے گا۔صدر عالمی بینک نے کہا کہ معاہدہ ختم کرنے یا اس میں تبدیلی کے لئے دونوں ممالک کا رضا مند ہونا ضروری ہے۔ معاہدے میں تبدیلی یا خاتمے کے حوالے سے شرائط معاہدے میں موجود ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو برقرار رکھنے اور اس کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ برطانیہ کے رکن پارلیمنٹ جیمز فرِتھ نے کہا کہ ہمارے حلقے کے بہت سے لوگ آزاد کشمیر، میرپور، کوٹلی اور گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی سے مقامی کمیونٹی میں بے چینی پھیل رہی ہے۔پانی تک رسائی کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے، سندھ طاس جیسے معاہدے خطے میں استحکام کے ضامن ہیں، ان کی حفاظت لازمی ہے۔فرِتھ نے برطانوی حکومت کی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ برطانیہ، جو تاریخی طور پر اس خطے سے جڑا رہا ہے، مزید فعال سفارتی کردار ادا کرے۔برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی نے پارلیمنٹ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں 3 ملین سے زائد افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے، ہم نے اس بحران کے آغاز سے اب تک بھارتی و پاکستانی وزرائے خارجہ سے 4 بار بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے سمیت تمام سفارتی معاہدوں کی پاسداری کریں، پانی کو کبھی بھی جنگی ہتھیار نہ بنایا جائے۔ ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے اور بھارت کی جموں کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ سندھ طاس بھی معاہدہ معطل رہے گا۔بھارتی وزارت خارجہ میں نیوز بریفنگ کے دوران رندھیر جیسوال نے بتایا کہ پاکستان نے 10 مئی کو 2 مرتبہ بھارت سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔انہوں نے ٹرمپ کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 7 مئی کے حملے کے بعد 10مئی کی فوجی کارروائی اور جنگ بندی معاہدے پر پہنچنے تک امریکی حکام سے تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازع کشمیر پر بھارت کا مؤقف پہلے کی طرح واضح ہے اور یہ مسئلہ مکمل طور پر دو طرفہ ہے، اسے صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ہی حل ہونا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ بھارت کے خطوط کا جواب دے دیا گیا ہے۔ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل اور فریقین پر لازم ہے۔ سندھ طاس معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہو گی۔ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس کی پاسداری ضروری ہے۔ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے سندھ طاس معاہدہ معاہدہ معطل معاہدے میں پاکستان نے عالمی بنک نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔