غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ڈی پورٹ افراد کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ڈی پورٹ افراد کو 5 سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان سیریئس کرائم اینڈ لا انفورسمنٹ پروگرام (اپسکیل) کے حکام اور وزارت داخلہ کے اعلی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں غیر قانونی امیگریشن، آن لائن چائلڈ ہراسانی، میوچوئل لیگل اسسٹنس و ایکسٹراڈیشن، کریمنل ریکارڈ کے تبادلے، غیر قانونی فنڈنگ اور انسداد منشیات کے لئے اٹھائے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن اور منشیات سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کوآرڈینیشن بہتر کرکے مربوط اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ آن لائن چائلڈ ہراسانی کے واقعات پر فوری اور سخت ایکشن ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی آن لائن ہراسانی کے تدارک کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے، سیریس اور آرگنائزڈ کرائمز کی روک تھام کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا ترجیح ہے، غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام کیلئے ڈی پورٹ افراد کو 5 سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے، غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ برطانوی معاونت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان میوچوئل لیگل اسسٹنس کے شعبے میں نئے رولز سے بہتری آئی ہے، اپسکیل پروگرام میں شامل تمام شعبے نہایت اہم ہیں، مذکورہ پروگرام کے تحت اینٹی نارکوٹکس فورس کی استعداد کار میں بہتری آئی ہے، اس پروگرام کو طویل المدتی بنیادوں پر فعال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
اجلاس میں سیکس آفنڈرز کو پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا، اپسکیل پروگرام پر پیش رفت کا ہر ماہ باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا، اپسکیل پروگرام کے تحت ڈیلیوری یونٹ باقاعدہ فنکشنل ہے، پاکستان کا پہلا سیکس آفنڈر رجسٹر قائم ہو چکا ہے۔
اجلاس میں اپسکیل سے نیل فاؤلر، کین ڈینز، حبیب گل، فضا وحید، حبیب گل اور دیگر نے شرکت کی جبکہ ڈی جی ایف آئی اے۔ وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔