---فائل فوٹو 

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کےلیے پیکیج کا اعلان کردیا۔ 

وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے شہداء کے ورثاء کےلیے 50، 50  جبکہ زخمیوں کو 10، 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے معرکہ حق کے دوران شہید ہونے والوں کے لیے پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے شہداء پیکیج کا اعلان کر دیا

شہباز شریف نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک مکمل تنخواہ اور الاؤنسز جاری رہیں گی۔ پاک افواج کے شہداء کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے اعلان کے تحت معرکہ حق میں شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں کے ورثاء کو 1 کروڑ جبکہ زخمی ہونے والوں کو 10 سے 20 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ 

اسی طرح پاک افواج کے شہداء کے ورثاء کو رینک کے حساب ایک کروڑ سے 1 کروڑ 80 لاکھ روپے کی رقم شہداء پیکیج کے تحت دی جائے گی۔

پاک افواج کے شہداء کے ورثا کو گھر کی سہولت کے لیے رینک کے حساب سے 1 کروڑ 90 لاکھ سے 4 کروڑ 20 لاکھ روپے تک دیے جائیں گے جبکہ پاک افواج کے شہداء کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ بمعہ الاؤنسز جاری رہیں گی۔

اعلامیے کے مطابق پاک افواج کے شہداء کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی جبکہ ہر شہید کی ایک بیٹی کی شادی کے لیے 10لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پاک افواج کے شہداء کے ہونے والوں دی جائے گی لاکھ روپے کا اعلان کے ورثاء

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا