عمران خان نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کا فیصلہ واپس لے لیا۔
پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عمران خان اور بیرسٹر گوہر کے درمیان آخری ملاقات میں کیا گیا۔عمران خان نے بیرسٹر گوہر سے ملاقات میں موقف اپنایا کہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذمہ داریاں ہونے کی وجہ سے جنید اکبر کی سیاسی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے موقف اپنایا کہ استعفیٰ دینے کی صورت میں اسپیکر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پی ٹی آئی کے بجائے کسی اور جماعت کو دے دیں گے۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کا عہدہ جانے سے پارٹی کو پارلیمان میں نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا جس پر عمران خان نے بیرسٹر گوہر کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ واپس لے لیا۔
دریں اثنا، اسلام آباد میں اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں جنید اکبر نے کہا کہ نہیں معلوم کہ ان کے استعفے کی تجویز کس نے دی تھی، بانی نے استعفے کا کہا تو ضرور دیں گے۔انہوں نے شکوہ کیا کہ پارٹی کے اندر کچھ لوگ ان کا استعفیٰ چاہتے تھے ان کی خواہش پوری ہوگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پبلک اکاو نٹس کمیٹی کی بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔