بھارت کو واضح پیغام دیا، ہم امن چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہم امن چاہتے ہیں، مگر عزت کے ساتھ، پاکستان نے دنیا کو بتایا کہ ہم پہل نہیں کرتے لیکن ہر حملے کا بھرپور جواب دیں گے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کے برخلاف تمام حقائق شفاف انداز میں دنیا کے سامنے رکھے، پاکستان نے کسی ملک سے درخواست نہیں کی کہ بھارت کو روکیں، خود اپنا مؤقف منوایا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں 100 سے زائد سفیروں کو بریفنگ دی، پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا گیا، دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں بھارتی جھوٹے بیانیے کو مسترد کر دیا گیا، پاکستان نے بغیر تاخیر کے تمام ڈیٹا، شواہد اور تفصیلات عالمی برادری سے شیئر کیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا، آپریشن فیز ون کی پیش رفت سے آگاہی لی، 9 مارچ کی رات بھارت کے 80 ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دیا گیا، دشمن کا بیانیہ خاک میں ملا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو بھارتی جھوٹ کا علم ہو چکا، پاکستان کی شفافیت کو سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جھوٹ پر مبنی جنگ بندی کی درخواست بے نقاب ہوگئی، خود وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا، پاکستان نے G20 ممالک اور اقوامِ متحدہ کے اہم اراکین کو فوری طور پر بریف کیا، 6 اور 7 مارچ کی درمیانی رات دنیا نے دیکھا کہ پہل پاکستان نے نہیں کی، چین سمیت کئی ممالک نے پاکستان کی پالیسی کو تسلیم کیا اور بھرپور سفارتی حمایت کی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کی پالیسیاں امن پر مبنی ہیں لیکن دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، عالمی برادری نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے ہر قدم قانون، شفافیت اور دیانتداری سے اٹھایا، پاکستان نے بھارتی لابی کے نیو نام (نیو نارمل) کے بیانیے کو دفن کر دیا، اللہ کے فضل سے قوم متحد، مطمئن اور پُرعزم ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، کشمیر میں بھارتی فوج نے وہ چوکیاں چھوڑ دیں جو 75 برسوں سے ان کے پاس تھیں، بھارت انڈس واٹر پر حملہ کرنا چاہتا تھا، 2023 سے بھارت کی کوشش ہے معاہدے کو توڑنے کی لیکن ایسا نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی سکیورٹی پرووائیڈر بننے کی کوششیں ناکام بنا دیں، پاکستان نے طاقت کا توازن بحال کر کے یکطرفہ بھارتی بیانیہ رد کر دیا، اللہ کے کرم، عوام کی دعاؤں اور افواج کی قربانیوں سے پاکستان کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایئر فورس نے شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 بھارتی جنگی طیارے اور ایک ڈرون مار گرایا، اللہ کے فضل سے پاکستان کا ایک بھی جہاز متاثر نہیں ہوا، مکمل دفاع یقینی بنایا گیا، پہلے 24 گھنٹے میں بھارت نے 9 ڈرونز بھیجے، اگلے دن 80 حملے کیے، پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملوں میں 4 اہلکار زخمی ہوئے، دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے فیصلہ کن اقدامات کی منظوری دی، بھارت نے نور خان ایئربیس، سکھر، رحیم یار خان پر حملے کیے، پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کی، پاکستان نے دشمن کی ہر حرکت پر دفاعی طور پر جواب دیا، ایف-16 کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کو امریکہ نے خود جھوٹا قرار دے دیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی فورمز پر واضح مؤقف اختیار کیا کہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، یو این چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت پاکستان نے مکمل قانونی دفاع کا حق استعمال کیا، پاکستان نے سفارتی سطح پر بھرپور رابطے کر کے عالمی برادری کو اپنا مؤقف واضح کیا، امریکہ سمیت کئی ممالک نے بھارتی بیانیے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان نے پریس ریلیز کے دو اہم نکات شامل کروا کر بھارتی موقف ناکام بنایا، پریس ریلیز میں “جموں و کشمیر” اور بھارتی اقدامات کے خلاف مزاحمت کا ذکر شامل کیا گیا، پاکستان نے ٹی آر ایف سے منسوب الزامات پر شواہد مانگے، عالمی ادارے خاموش رہے، پاکستان نے ثابت کیا کہ نہ صرف دفاعی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ سفارتی محاذ پر بھی کامیاب ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے دنیا میں اپنی سفارتی کامیابی کو ثابت کیا، دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے، بھارت کو ہم نے سفارتی محاذ پر ہرا دیا، اپوزیشن لیڈر سے اتفاق کرتا ہوں میثاق معیشت ہونا چاہئے میں نے قومی اسمبلی میں میثاق معیشت کی پی ٹی آئی سے بات کی اب بھی دیر نہیں ہوئی میثاق معیشت کرلیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت پر کوئی کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہئے، سیاست سب کا حق ہے لیکن ایک دوسرے کے ساتھ پرسنل نہیں ہونا چاہئے، اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کی معیشت پر سوچ سے اتفاق کرتا ہوں، ڈپٹی وزیر اعظم نے اپوزیشن لیڈر کو سینیٹ کی مخصوص سیٹوں کے حوالے یقین دہانی کرا دی، سینیٹ کی مخصوص نشستوں پر وزیر اعظم سے بات کروں گا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان پاکستان نے بھارت انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان نے نے بھارتی بھارت کو بتایا کہ نہیں کی کر دیا کیا کہ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔