تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا، غلام محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
حریت رہنما نے آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر کشمیری عوام کی طرف سے پاکستان کی حکومت و عوام اور افواج پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیری حریت رہنمائوں نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ جنگی صورتحال سے پھر واضح ہو گیا ہے کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر کشمیری حریت رہنمائوں نے آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پہلگام واقعے کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر میں بھارتی جارحیت اور اس کے جواب میں پاکستان کے کامیاب آپریشن بنیان مرصوص اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر کشمیری عوام کی طرف سے پاکستان کی حکومت و عوام اور افواج پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام میں 26 شہریوں کے قتل کی پاکستان، کشمیری عوم اور ہر باضمیر شخص نے مذمت کی۔ تاہم بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے بغیر کسی ثبوت کے اس کا الزام پاکستان اور کشمیریوں پر عائد کر کے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی اور سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔
غلام محمد صفی نے کہا کہ پاکستان نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیش کش کی تاہم طاقت کے نشے میں چور بھارت نے خود ہی مدعی اور منصف بنتے ہوئے جنوبی ایشیاء کے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اس کے بعد دنیا نے دیکھ لیا کہ اللہ کے شیر کون ہیں اور کاغذی شیر کون۔میڈیا ہاوسز کے سہارے خود کو خطے کی واحد پاور کہلانے والا بھارت بنیان مرصوص سے ٹکرا کر کس طرح حواس باختہ ہو گیا پوری دنیا نے اس کا مشاہدہ کیا۔پاکستانی میڈیا نے گودی میڈیا کو دنیا کے سامنے بری طرح بے نقاب کر دیا۔حریت رہنماء نے واضح کیا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ مسائل کا منصفانہ اور حتمی حل ریاستی دہشتگردی یا جنگ سے نہیں بلکہ پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کو صرف سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔بھارت کی تمام تر مذموم کوششوں کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست کے بعد بھارت میں حصول تعلیم اور تجارت کی غرض سے مقیم کشمیریوں اور جیلوں میں قید کشمیری نظربندوں خصوصا حریت قائدین کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے اقوام عالم سے غیر قانونی طور پر نظربند کشمیری حریت رہنمائوں کی فوری رہائی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالنے پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں کی توجہ بھارتی وزیراعظم کے اس بیان کی جانب بھی مبذول کرائی جس میں وہ جنگ بندی کو محض عارضی وقفہ قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بنیان مرصوص انہوں نے نے کہا کے بعد
پڑھیں:
پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔
تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب