اپنے پیاروں کا بدلہ لینے کے لیے خاتون نے 40 گینگسٹرز کیسے قتل کیے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
ہیٹی کی ایک خاتون نے ایک کرمنل گینگ کے ہاتھوں اپنے خاندان والوں کی ہلاکت کا بدلہ لیتے ہوئے اس گروہ کے 40 ارکان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’چیز از فنٹاسٹک‘، اضافی پنیر نہ ملنے پر مہمان نے شادی ہال میں بس گھسیڑ دی
مقامی میڈیا کے مطابق ہیٹی طویل عرصے سے پرتشدد جرائم کا گڑھ بنا ہوا ہے اور گینگز کے ہاتھوں بہت سے خاندانوں کو ان بے رحم مجرموں کے ہاتھوں سانحات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن دوسروں کے برعکس مذکورہ خاتون نے اپنے پیاروں کے قتل کا بدلہ لے لیا۔
ہیٹی کے دارالحکومت شہر پورٹ او پرنس کے کنسکوف ڈسٹرکٹ میں ایک خاتون اخبارات کی سرخیوں کا حصہ بن گئیں جنہوں نے اپنے پیاروں کی موت کے ذمے دار ایک مقامی گینگ کی صفوں میں قتل کا بازار گرم کردیا۔
خاتون نے بدلہ لینے کے لیا طریقہ کار استعمال کیا؟اب یہ تو ظاہر ہی ہے کہ مذکورہ خاتون طاقت کے بل پر اس گینگ کا قلع قمع تو نہیں کرسکتی تھیں تاہم انہوں نے ایک الگ طریقہ کار اپناتے ہوئے اپنے بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔
مذکورہ خاتون سموسے بنانے میں مہارت رکھتی تھیں۔ انہوں نے اس گینگ کے اراکین میں مفت سموسے بانٹتے ہوئے ان سے کہا کہ آپ لوگ علاقے کے افراد کو دوسرے گینگز سے بچانے کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے میں اظہار تشکر کے طور پر آج آپ لوگوں کو سموسے کھلانا چاہتی ہوں۔
جبکہ حقیقت میں وہ ان لوگوں سے انتقام لے رہی تھیں جنہوں نے ان کے خاندان کے کئی افراد کو قتل کردیا تھا۔
مزید پڑھیے: پڑوسن کے بلے کو کھانا کھلانے پر تھانہ کچہری، غیرمعمولی کیس کا عجیب انجام
خاتون جن کا نام پولیس نے ظاہر نہیں کیا ہے کینسوف میں طویل عرصے سے سموسے فروخت کیا کرتی تھیں اس لیے گینگ کے ارکان کے پاس شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔
اب خاتون نےکیا یہ کہ اپنے بنائے ہوئے لذیذ سموسوں میں ایک طاقتور کیڑے مار دوا خوب اچھی طرح ملا دی۔ گینگ کے ارکان نے مزے لے لے کر وہ سموسے کھائے تاہم اس کے چند منٹ بعد ہی ان سب کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور وہ الٹیاں کرنے لگے۔ زہر اتنا کارگر تھا کہ اس سے قبل کہ انہیں کوئی طبی امداد ملتی وہ دم توڑ گئے۔
مقامی میڈیا نے اس گینگ کے 40 اراکین کی موت رپورٹ کی۔ اس گینگ کا سربراہ ایک سابق پولیس اہلکار جمی چیریزیئر عرف ’باربی کیو‘ ہے۔
خاتون زہر دینے کے فوراً بعد ہی اپنا بوریا بستر لپیٹ کر کہیں جا چھپیں تاہم اس واقعے کے بعد گینگ اراکین نے ان کا گھر جلا کر خاکستر کردیا تھا۔
مزید پڑھیں: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
میڈیا کے مطابق خاتون نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے اور اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کی موت کا بدلہ لینے کے لیے 40 گینگ ممبرز کو زہر دے کر ماردیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اس بدلے کی پلاننگ اور اس پر عملدرآمد انہوں نے خود اپنے طور پر کیا ہے اور ان کے ساتھ اس میں کوئی اور شریک نہیں ہے۔ خاتون پر مقدمہ چلنے کی تاحال کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خاتون نے 40 گینگسٹرز مار دیے خون کا بدلہ خون ہیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خاتون نے 40 گینگسٹرز مار دیے خون کا بدلہ خون ہیٹی خاتون نے انہوں نے کا بدلہ گینگ کے اس گینگ کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔