UrduPoint:
2026-06-03@05:01:36 GMT

مختلف جنسی رحجان رکھنے والوں کے حقوق پر قدغنیں تشویشناک

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

مختلف جنسی رحجان رکھنے والوں کے حقوق پر قدغنیں تشویشناک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 16 مئی 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ تشدد اور تفریق دنیا بھر کے لاکھوں ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد کی روزمرہ زندگی کے تلخ حقائق ہیں جبکہ طبی خدمات اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے لیے امدادی وسائل میں کمی سے ان کے لیے حالات مزید گمبھیر ہو گئے ہیں۔

ہم جنس پرست، دو جنسی رجحانات کے حامل اور ٹرانسجینڈر افراد سے نفرت کے خلاف عالمی دن 17 مئی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو آئی + لوگوں کو اظہار نفرت، حملوں اور اپنے حقوق پر قدغن کا سامنا ہے۔

تاہم، ایسے لوگوں اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے والوں نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مدد کی فراہمی اور تبدیلی لانے کے لیے اجتماعی اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

Tweet URL

ان کا کہنا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی مثال سے تحریک لیتے ہوئے سبھی کو متحد ہو کر ایسی دنیا تعمیر کرنا ہو گی جہاں تمام انسان ایک خاندان کی طرح آزادی، مساوات اور وقار کے ساتھ جی سکیں۔

سبھی کو متحد ہو کر امتیازی قوانین کے خلاف مزاحمت کرنا ہو گی، تشدد اور نقصان دہ طرزعمل کو روکنا ہو گا اور پسماندہ لوگوں کو ناجائز طور پر مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کا خاتمہ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ ان کوششوں میں فخریہ شراکت دار ہے اور تمام لوگوں کے حقوق یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گا خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کسی سے بھی محبت کیوں نہ کرتے ہوں۔

برادری کا احساس

اس دن پر اپنے پیغام میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد کے تحرک اور تخلیقی صلاحیت نے دنیا بھر میں معاشروں کو غیرمعمولی فائدہ پہنچایا ہے۔ تاہم، ہر جگہ ان کے حقوق اور آزادیوں کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

بہت سے ممالک میں ان لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں برادری کے احساس نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ہم جنس تعلقات کو جرائم کی فہرست سے نکالنا ہو، ان لوگوں سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف قانون سازی ہو یا صںفی شناخت اور ازدواجی مساوات کو تسلیم کرنا ہو، ایسے ہر معاملے میں معاشرتی سطح پر متحدہ اقدامات کی بدولت ہی کامیابی ملی۔

ان کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک میں اب بین جنسی بچوں کو دوسروں کے نقصان دہ طرزعمل سے کہیں بہتر تحفظ حاصل ہے۔

اسی طرح، ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد کے حقوق کے حوالے سے عام آگاہی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔سیاسی و ٹیک قیادت کی ذمہ داری

ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ کسی فرد کا کسی بھی دوسرے فرد سے محبت کرنا عین انسانی جذبہ ہے تاہم اسی جذبے کے اظہار پر دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد کے خلاف تشدد اور تفریق عام ہے۔ بعض سیاست دان اور رہنما ان کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور لوگوں کو تقسیم اور گمراہ کرنے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم خاطرخواہ ضوابط کی عدم موجودگی میں ان کے خلاف تعصب اور نفرت پھیلانے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ایل جی بی ٹی کیو آئی + افراد کی اظہار، پرامن اجتماع اور میل جول کی آزادیوں پر قدغن عائد کرنے کے لیے نئے امتیازی قوانین بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں پرائیڈ جلوسوں پر پابندیاں اور تعلیمی مواد کو سنسر کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔

اپنے پیغام میں ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ سبھی کو ان رجحانات کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی اور معاشرے کے تمام شعبوں میں ان لوگوں کو تشدد اور تفریق سے بچانا ہو گا۔ اس حوالے سے ریاستوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو آئی + برادری کو وقار اور مساوات کے لیے کام کرنے والے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر چلنا ہو گا۔ اقوام متحدہ ہر جگہ تمام لوگوں کے انسانی حقوق اور وقار کے لیے اپنی کوششوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ لوگوں کے لوگوں کو تشدد اور کے خلاف کے حقوق کرنا ہو کے لیے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم