امریکا میں 70 سالہ سکھ بزرگ پر وحشیانہ حملہ، حالت تشویشناک
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
نارتھ ہالی ووڈ میں ایک 70 سالہ سکھ بزرگ ہرپال سنگھ کو ایک گوردوارے کے قریب گالف کلب سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور اسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ واقعہ 5 اگست کو پیش آیا، جس کے بعد مقامی سکھ برادری نے علاقے میں پولیس کی نفری بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق ہرپال سنگھ اپنی روزانہ کی سیر پر تھے جب ملزم، بو رچرڈ ویٹاگلیانو (عمر 44 سال)، نے ان پر اچانک حملہ کر دیا۔ حملے میں ہرپال سنگھ کے چہرے کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور دماغ میں خون جم گیا، جس کے علاج کے لیے انہیں پچھلے ایک ہفتے میں 3 بڑے آپریشنز سے گزرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ میں انتقال کرنے والے سکھ علیحدگی پسند کارکن کی موت مشکوک قرار، انکوائری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ
واقعے کے بعد لی گئی ایک ویڈیو میں ہرپال سنگھ کو سڑک کے کنارے خون میں لت پت بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ حملے میں استعمال ہونے والا گالف کلب ان کے قدموں کے پاس پڑا تھا۔
ان کے بھائی گردیال سنگھ رندھاوا کے مطابق:
’انہیں انتہائی بیدردی سے مارا گیا، اللہ ہی نے بچایا، وہ تقریباً مر ہی گئے تھے۔‘
ملزم کی گرفتاریلاس اینجلس پولیس نے بتایا کہ ملزم کو لینکرشِم بلیوارڈ اور آرمِنٹا اسٹریٹ کے قریب سائیکل چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کردہ تصاویر نے گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں سکھ علیحدگی پسند کو قتل کرنے کی بھارتی سازش بے نقاب، بھارت کو انتباہ جاری
پولیس کے مطابق ملزم کا مجرمانہ ریکارڈ ہے، جس میں ہتھیار اور حملے کے مقدمات شامل ہیں۔ اسے 11 لاکھ 15 ہزار امریکی ڈالر کے ضمانتی بانڈ پر جیل میں رکھا گیا ہے۔
دوستوں اور مقامی افراد کے مطابق ہرپال سنگھ نہایت نرم دل انسان ہیں جو اکثر گوردوارے کے قریب ایک دکان کے پچھلے پارکنگ ایریا میں پرندوں کو دانہ ڈالتے دکھائی دیتے تھے۔ وہ روزانہ گوردوارے جا کر باقاعدہ عبادت بھی کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے ’را‘ کو غیرملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا جائے، سکھوں نے امریکا سے بڑا مطالبہ کردیا
ہرپال سنگھ اب بھی اسپتال میں انتہائی تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں، اور پولیس نے تاحال حملے کی وجوہات ظاہر نہیں کی ہیں۔
سکھ برادری کا ردِعمل اور مطالباتاس واقعے کے بعد سکھ برادری میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
سکھ کولیشن کی لیگل ڈائریکٹر منمیت کور نے کہا:
’یہ واقعہ اور اس پر بروقت کسی کا نہ پہنچنا ہماری کمیونٹی میں شدید خوف پھیلانے کا سبب بنا ہے۔ ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس علاقے میں سکیورٹی بڑھائی جائے تاکہ لوگ آزادانہ اور محفوظ طریقے سے یہاں آ جا سکیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
را دہشتگردی سکھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: را دہشتگردی سکھ ہرپال سنگھ کے مطابق
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔