محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں افسران کو پروموشن نوٹی فکیشن جاری کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں افسران کو پروموشن نہ دینے کے خلاف درخواست پر سیکرٹری محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو درخواست گزاروں کا پروموشن نوٹیفکیشن جاری کرنے حکم دیدیا۔
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں افسران کو پروموشن نہ دینے کیخلاف درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی، جہاں اسد اللہ بلو ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواستگزاروں کو پروموٹ کرنے کے لیے ڈی پی سی کا اجلاس ہوا، جس میں درخواستگزاروں کو ترقی دینے کی سفارش کی گئی، لیکن سفارش کے باوجود ان کو ترقی نہیں دی گئی۔
درخواست گزار کے مطابق عدالت نے درخواست گزاروں کو پروموشن کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا بھی حکم دیا تھا، لیکن عدالتی حکم کے باوجود ان کی ترقی کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔
بعد ازاں عدالت نے سیکرٹری محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو درخواست گزاروں کا پروموشن نوٹیفکیشن جاری کرنے حکم دیدیا۔ عدالت میں درخواست ریاض جلبانی، غفار شیخ و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نوٹیفکیشن جاری کو پروموشن
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔