چلاس: گلگت بلتستان پولیس جوانوں کے حکومت سے مذاکرات ناکام، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
گلگت بلتستان پولیس اہلکاروں اور حکومت کے درمیان ڈیلی الاؤنس (DA) کی عدم فراہمی اور اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) کی مستقل حیثیت کے مطالبے پر مذاکرات ناکام ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہم ڈیوٹی نہیں دیں گے۔
گلگت بلتستان پولیس اہلکاروں کے اہم مطالباتپولیس اہلکار حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ڈیلی الاؤنس کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے۔ اور ایس پی یو کو مستقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے گلگت: جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے فورس کا قیام، پہلے بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ
پولیس اہلکاروں نے اپنے ڈیم سیکیورٹی انچارج ڈی ایس پی محمد سمیع اللہ کو شام تک مطالبات کی منظوری کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج شام تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ گلگت میں جاری مرکزی دھرنے میں لانگ مارچ کر کے شریک ہوں گے۔
تھور اور شنگ نالہ سیکٹر کے پولیس جوانوں نے بھی ڈیوٹی کے بائیکاٹ کا باقاعدہ نوٹس اپنے ڈی ایس پی کو دے دیا ہے۔
ڈیوٹی سے انکارڈی ایس پی محمد سمیع اللہ نے تصدیق کی کہ پولیس جوان آج احتجاجاً ڈیوٹی پر نہیں گئے۔ ان کے مطابق اہلکاروں کا مطالبہ صرف ڈیلی الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے، اور جب تک یہ نوٹیفکیشن نہیں ہوتا، وہ ڈیوٹی پر واپس نہیں آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیے گلگت میں غیرمتوقع واقعہ رونما، پولیس کے خلاف سیاحوں کو لوٹنے کی شکایت درج
اہلکاروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر 16 اگست تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ گلگت پولیس کے مرکزی دھرنے میں شامل ہو جائیں گے۔
صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان پولیس کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ سیکیورٹی امور متاثر نہ ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گلگت بلتستان پولیس گلگت پولیس احتجاج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان پولیس گلگت پولیس احتجاج گلگت بلتستان پولیس پولیس اہلکاروں ایس پی
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔