گلگت بلتستان پولیس اہلکاروں اور حکومت کے درمیان ڈیلی الاؤنس (DA) کی عدم فراہمی اور اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) کی مستقل حیثیت کے مطالبے پر مذاکرات ناکام ہوگئے۔

پولیس ذرائع کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہم ڈیوٹی نہیں دیں گے۔

گلگت بلتستان پولیس اہلکاروں کے اہم مطالبات

پولیس اہلکار حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے ڈیلی الاؤنس کا نوٹیفکیشن فوری جاری کیا جائے۔ اور ایس پی یو کو مستقل کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے گلگت: جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے فورس کا قیام، پہلے بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

پولیس اہلکاروں نے اپنے ڈیم سیکیورٹی انچارج ڈی ایس پی محمد سمیع اللہ کو شام تک مطالبات کی منظوری کے لیے مہلت دے رکھی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج شام تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ گلگت میں جاری مرکزی دھرنے میں لانگ مارچ کر کے شریک ہوں گے۔

تھور اور شنگ نالہ سیکٹر کے پولیس جوانوں نے بھی ڈیوٹی کے بائیکاٹ کا باقاعدہ نوٹس اپنے ڈی ایس پی کو دے دیا ہے۔

ڈیوٹی سے انکار

ڈی ایس پی محمد سمیع اللہ نے تصدیق کی کہ پولیس جوان آج احتجاجاً ڈیوٹی پر نہیں گئے۔ ان کے مطابق اہلکاروں کا مطالبہ صرف ڈیلی الاؤنس کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہے، اور جب تک یہ نوٹیفکیشن نہیں ہوتا، وہ ڈیوٹی پر واپس نہیں آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیے گلگت میں غیرمتوقع واقعہ رونما، پولیس کے خلاف سیاحوں کو لوٹنے کی شکایت درج

اہلکاروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر 16 اگست تک مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ گلگت پولیس کے مرکزی دھرنے میں شامل ہو جائیں گے۔

صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان پولیس کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ سیکیورٹی امور متاثر نہ ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گلگت بلتستان پولیس گلگت پولیس احتجاج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان پولیس گلگت پولیس احتجاج گلگت بلتستان پولیس پولیس اہلکاروں ایس پی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار