عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت کا مسئلہ کشمیر سے متعلق بیانیہ زمین بوس ہوگیا ہے۔ پوری دنیا نے تسلیم کرلیا ہے کہ یہ معاملہ ریجنل یا دوطرفہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے اور انشاء اللہ اب یہ حل ہو کر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے وفاقی وزراء کو عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا اختیار دے دیا
آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وہ اور امیر مقام آزاد کشمیر گئے تاکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں آزاد کشمیر حکومت کی معاونت کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی سابقہ معاہدوں سے ہٹ کر 38 نئے مطالبات کے ساتھ آئی، جن میں سے قابلِ عمل مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے، باقی مطالبات پر آزاد کشمیر حکومت کے وزراء اور چیف سیکرٹری فوکل پرسن کے طور پر عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مزید گفتگو کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف مسلم کانفرنس میدان میں آ گئی، 29 ستمبر کو امن مارچ کا اعلان
ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزرا چند دن بعد دوبارہ آزاد کشمیر جائیں گے تاکہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاملات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے کچھ مطالبات ایسے ہیں جن پر عمل آئینی ترامیم کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں اور اراکین اسمبلی کو قائل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: آئین سے ماورا مطالبات ناقابل قبول، وفاقی وزرا کی مظفرآباد میں پریس کانفرنس
انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور ان کو یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم اور دیگر معاملات پر پرامن انداز میں بات چیت جاری رکھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آزاد کشمیر طارق فضل چوہدری عوامی ایکشن کمیٹی وفاقی وزرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری عوامی ایکشن کمیٹی وفاقی وزرا عوامی ایکشن کمیٹی کے طارق فضل چوہدری کے ساتھ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔