میدان جنگ میں شکست فاش پر بھارت نے پاکستان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے پلان کرلیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
بھارت نے پاکستان کا پانی کم کرنے کے لیے دریا سے خود کے لیے زیادہ پانی حاصل کرنے کے منصوبوں پر غور شروع کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام ڈراما کامیاب کرنے کے لیے مودی نے کیا اقدامات کیے، گھر کے بھیدی نے بتادیا
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان کے لیے مختص اور اس کے کھیت سیراب کرنے والے دریائے چناب میں کنال کو وسیع کرنا چاہتا ہے اور اس کے علاوہ بھی دیگر منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے دریائے سندھ کے نظام کے استعمال کو منظم کرنے والا سنہ 1960 کے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کردیا تھا۔
پاکستان نے اس واقعے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے لیکن معاہدہ بحال نہیں ہوا اور جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں پڑوسیوں کچھ جنگی جھڑپیں بھی ہوئیں تاہم اب جنگ بندی ہوچکی ہے۔
معاہدے میں انڈیا کی شرکت کو معطل کرنے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ چناب، جہلم اور سندھ دریاؤں پر منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کو تیز کریں، یہ 3 آبی ذخائر سندھ نظام میں شامل ہیں جو بنیادی طور پر پاکستان کے استعمال کے لیے مختص ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ زیر غور ایک اہم منصوبہ رنبیر نہر کی لمبائی کو دوگنا کر کے 120 کلومیٹر تک لے جانا ہے جو چناب پر واقع ہے اور انڈیا سے پاکستان کے زرعی مرکز پنجاب تک جاتی ہے۔ یہ نہر 19ویں صدی میں بنائی گئی تھی جو معاہدے کے دستخط سے کافی پہلے کی بات ہے۔
بھارت کو چناب سے آبپاشی کے لیے محدود مقدار میں پانی نکالنے کی اجازت ہے لیکن ایک بڑی نہر کی مدد سے جس کی تعمیر میں ماہرین کے مطابق کئی سال لگ سکتے ہیں اور جس کی مدد سے 150 مکعب میٹر پانی فی سیکنڈ موڑا جا سکے گا لیکن فی الحال پانی کی مقدار تقریباً 40 مکعب میٹر ہے۔
رنبیر کی توسیع کے بارے میں انڈین حکومت کی غور و فکر کی تفصیلات پہلے کبھی رپورٹ نہیں ہوئیں۔ یہ گفتگو گزشتہ ماہ شروع ہوئی اور جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہی۔
مزید پڑھیے: پہلگام حملہ: بھارت کی سفارتی تنہائی، پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت ان منصوبوں پر بھی غور کر رہا ہے جن سے ان دریاؤں سے پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور جو پاکستان کے لیے مختص ہیں۔
ایک سرکاری کمپنی کی طرف بھارتی حکام کو تجویز کیا گیا ہے کہ سندھ، چناب اور جہلم کے پانی کو شمالی انڈیا کی 3 ریاستوں میں دریاؤں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسی زیر غور تجاویز پہلگام واقعے سے پہلے تیار کی گئی تھیں۔ ان ممکنہ منصوبوں میں ایسے ڈیم بھی شامل ہیں جو بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جو سندھ دریا کے نظام میں انڈیا کے لیے پہلی بار ہوگا۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا جاسکتا، صدر عالمی بینک نے بھارتی دعویٰ مسترد کردیا
پاور منسٹری کے ایک دستاویز کے مطابق بھارت نے کم از کم 5 ممکنہ ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں سے 4 چناب اور جہلم کی معاون ندیوں پر ہیں۔
رائٹرز کا کہنا ہے کہ پانی اور خارجہ امور کی ذمہ دار بھارتی وزارتوں اور وزیراعظم کے دفتر سے ان کا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی تاہم وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت کی سازش بھارت کی شکست بھارت کے ہتھکنڈے پاک بھارت کشیدگی پانی بنا ہتھیار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت کی سازش بھارت کی شکست بھارت کے ہتھکنڈے پاک بھارت کشیدگی پانی بنا ہتھیار پاکستان کے بھارت نے کے مطابق کرنے کے کے لیے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں