مسئلہ کشمیر پھر دنیا کے سامنے آگیا، پاکستان فائدہ اٹھائے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے حالیہ پاکستان بھارت جنگ کے نتیجہ میں مسئلہ کشمیر ایک دفعہ پھر پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے، حکومت پاکستان اس موقع کا فائدہ اٹھائے اور تنازعہ کشمیر کے حل کو اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق یقینی بنائے۔ اہل کشمیر اور پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کے علاوہ کسی اور سمجھوتہ کو قبول نہیں کرے گی۔ تنازعہ کے حل کے بغیر خطہ میں امن ممکن نہیں۔ عباس پور، ہجیرہ، دوارندی اور بٹل سیکٹر میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے زیراہتمام یوم تشکر ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ کنٹرول لائن پر بسنے والے کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور ہر مرد و زن کو جنگی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ثالثی کے نام پر تقسیم کشمیر کی کوئی بات کریں گے تو کشمیری اور پاکستانی اسے تسلیم نہیں کریں گے۔ امیر جماعت نے بھارتی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقاتیں کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی اور شہداء کے بلندی درجات کی دعا کی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کنٹرول لائن پر موجود فوجی جوانوں سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کو داد شجاعت دی۔ یوم تشکر ریلیوں سے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سیکرٹری جنرل آزاد کشمیر راجہ جہانگیر خان، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمیل احمد راٹھور، نائب امیر سردار زاہد رفیق، تحریک کشمیر کے برطانیہ کے صدر فہیم کیانی، الطاف بھٹ، سردار حبیب خان، مختار علی خان، سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کشمیری عوام کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی پاکستان اور 25کروڑ پاکستانی عوام ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ امیر جماعت آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق خان نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سیز فائر لائن کا دورہ کر کے کشمیری قوم کے حوصلے بلند کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔