ملتان: عالمی سائبر نیٹ ورک پکڑ اگیا، 21 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستان میں عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک پکڑا گیا، جس کے21 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔
ملتان میں حساس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کارروائی کی، گرفتار ملزمان سے ڈیجیٹل مواد برآمد ہوا ہے۔
ترجمان سائبر کرائم کے مطابق گرفتار ملزمان سے لیپ ٹاپس، موبائل فون اور ڈیٹا اسٹوریج ڈیوائسز بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ترجمان کے مطابق حساس اداروں کو عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک کی نشاندہی امریکی ایف بی آئی اور ڈچ پولیس نے کی تھی۔
ترجمان سائبر کرائم کے مطابق نیٹ ورک کا سرغنہ رمیز شہزاد امریکیوں اور دیگر غیر ملکیوں سے کروڑوں ڈالرز کے فراڈ میں ملوث ہے۔
ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی اور تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک