ٹرمپ کاپاکستان سے متعلق بیان،بھارتی پریشان
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
اسلا م آباد(طارق محمود سمیر )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانیوںکی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میں نے جنگ بندی کرائی ہے اور زندگی میں سب سے زیادہ میرے جس کام کو سراہا گیا وہ یہی ہے ، انہوں نے کہا ایٹمی جنگ ہونے کے خطرات تھے، میں نے مداخلت کی ورنہ بڑی تباہی ہوجاتی، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ذہین لوگ ہیں، وہ حیرت انگیز اشیاء تیار کرتے ہیں،پاکستان کو ہم کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے ،ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت میں بڑی پریشانی پائی جاتی ہے ،کشمیر پر ثالثی کی بات کرتے ہیں، بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کرتا ہے ۔اس کے علاوہ برطانوی وزیر خارجہ کا اہم بیان سامنے آیا ہے ،برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے فریقین پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم رہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ طاس معاہدے پرکوئی نظر ثانی ہونی ہے تو یکطرفہ نہیںہوسکتی،اس پر بھی بھارتی میڈیا میں بڑا واویلا ہے ، پاکستان سفارتی محاذ پر بہت آگے نکل گیا ہے جبکہ انڈیا سفارتی لحاظ سے تنہائی کا شکار ہوگیا ہے ،بھارت ایک بڑا ملک ہے اور اس کی معیشت بھی مضبوط ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ 1998میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے اور اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے اس کا جواب دیا تو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے آفرزکیں جسے ٹھکرا دیا گیا اور بل کلنٹن نے پاک بھارت برابری کے تعلقات کے حوالے سے ایک پالیسی بنائی تھی ،اب طویل عرصے بعد صدر ٹرمپ نے وہی پالیسی دوبارہ بنائی ہے اور دونوں ممالک کو برابری کی سطح پر لے آئے ہیں،بھارت میں ایک پریشانی کی بات ظاہر ہورہی ہے ،کچھ یوٹیوبر جنہوں نے مودی پر تنقیدکی ان کوگرفتارکر لیا گیا اور ان پر جاسوسی کے الزامات لگائے گئے ہیں ،بھارتی میڈیا کی ساکھ دنیا میں ختم ہوچکی ہے ، عالمی سطح پر بھارتی میڈیا کی سرگرمیاں تھیں وہ خود بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بنی اور پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور بے جا سنسنی پھیلانے سے پرہیز کیا،اب بھارت نے سات سفارتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو دنیا میں جا کر بھارت کا موقف بیان کریں گی اس پر کانگریس نے تبصرہ کیا ہے کہ چڑیا چُگ گئی کھیت اور اب ان کو خیال آیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بندکمرے میں بھی یہی تجویز دے چکا ہوں اور اب عوامی سطح پر بھی یہ کہتا ہوںکہ ملک میں سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کئے جائیں اور ہماری سیاسی قیادت نوازشریف شہبازشریف اور فوجی قیادت کو بھی چاہیے کہ سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے اپنا مثبت کردار اداکریں اور دوسری سائیڈ والوںکو بھی چاہیے کہ شرائط عائد نہ کریں ،شرائط عائد کرنے سے معاملات اور مذاکرات نہیں ہوتے ، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دشمن آرام سے نہیں بیٹھے گا، آج پاکستان کو سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، سیاسی درجہ حرارت نیچے لانا ہو گا۔دوسری جانب نوازشریف سے وزیراعظم شہبازشریف نے ملاقات کی ،وزیراعظم شہازشریف تقریباً چار ہفتے بعد لاہورگئے اور وزیر اطلاعات عطاتارڑ بھی چار ہفتے بعدلاہور گئے ،پہلگام واقعے کے بعد وہ لاہور نہیں جاسکے ، نوازشریف سے عرفان صدیقی نے بھی ملاقات کی جس میں نوازشریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے پاک بھارت جنگ میں مثبت اور توانا کردار ادا کیا، قومی سلامتی کیلئے ہر قسم کی سیاسی تقسیم بھلا کر ایک آواز ہونا خوش آئند ہے،نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کے نمائندوں نے عوام کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بہادر مسلح افواج کا حوصلہ بڑھایا، ہماری بہادر مسلح افواج نے انتہائی پیشہ وارانہ مہارت اور بھرپور عزم سے سرزمین وطن کا دفاع کیا۔نوازشریف کے خیالات عرفان صدیقی کے ذریعے میڈیا میں آئے ہیں ، نوازشریف نے وزیراعظم شہبازشریف کی کارکردگی کو بھی بڑا سراہا ہے اور مسلح افواج نے جو بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے اس پر بھی نوازشریف کافی خوش دکھائی دیے ۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا ہے اور
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔