شیخ کاظم ذاکری ایم ڈبلیو ایم شگر کے دوبارہ صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
۔ اس موقع پر نو منتخب صدر کاظم زاکری کا کہنا تھا کہ بہت جلد ضلع شگر سے باصلاحیت اور بے باک لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا جو مجلس وحدت کے ٹکٹ سے جی بی اسمبلی کا الیکشن لڑے گا۔ اسلام ٹائمز۔ شیخ کاظم زاکری اگلے تین سالوں کے لئے مجلس وحدت المسلمین ضلع شگر کے دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔ وحدت ہاؤس شگر میں انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد ہوا جس میں علاقے بھر سے تنظیمی عہدیداران نے شرکت کی۔ اس موقع پر تمام عہدیداران نے شیخ کاظم ذاکری کو دوبارہ صدر منتخب کر لیا۔ اس موقع پر نو منتخب صدر کاظم زاکری کا کہنا تھا کہ بہت جلد ضلع شگر سے باصلاحیت اور بے باک لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا جو مجلس وحدت کے ٹکٹ سے جی بی اسمبلی کا الیکشن لڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔