سارہ خان اور فلک شبیر دوسرے بچے کو خوش آمدید کرنے والے ہیں؟ ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ سارہ خان ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں ہیں۔
گلوکار فلک شبیر اور ان کی اہلیہ اداکارہ سارہ خان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اکثر وائرل رہتی ہیں تاہم اس بار وہ اپنے گھر نئے ننھے مہمان کی ممکنہ خوشخبری کے باعث سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں فلک شبیر کی ایک وی لاگ میں ان کی بیٹی عالیانہ فلک نے اپنی والدہ سارہ خان کے حاملہ ہونے کا اشارہ دیا ہے جس کے بعد چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں ہیں کہ فلک اور سارہ کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش متوقع ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
ویڈیو میں فلک شبیر عالیانہ سے پوچھتے ہیں کہ “بے بی کہاں ہے؟” جس پر الیانہ سارہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے “دوسرا بے بی ممی کے پاس ہے۔”
سوشل میڈیا صارفین اور اس خوبصورت جوڑی کے مداح انہیں دوبارہ والدین بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سارہ خان کا ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ فیمنسٹ نہیں ہیں اور مردوں کا کام مردوں پر ہی چھوڑنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مردوں کو وہ مقام دینا چاہیے جو اُن کے لیے مخصوص ہے تاکہ عورتیں سکون سے جی سکیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فلک شبیر
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔