اسرائیل کا غزہ میں امداد کی فراہمی کیلئے ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے، اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ میں محدود پیمانے پر امداد کی فراہمی کیلئے ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی سطح پر شدید تنقید کے بعد 10 ہفتوں سے جاری غزہ کی ناکہ بندی پر اسرائیل نے غزہ میں خوراک کی ضروری مقدار محدود پیمانے پر پہنچانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اعلان اسرائیلی فوج کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے پورے غزہ میں وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ کی آبادی قحط کا شکار ہو سکتی ہے، اسرائیل نے 2 مارچ کو غزہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء پہنچانے پر پابندی عائد کردی تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں واضح نہیں کہ امداد کیس لے جائی جائے گی اور امداد کی فراہمی کب سے شروع ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ناکہ بندی امداد کی غزہ کی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔