پاکستانی ڈاکیومنٹری ’ہنگنگ بائے اے وائر‘کانز فلم فیسٹیول میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پاکستانی فلمساز محمد علی نقوی کی نئی دستاویزی فلم ہینگنگ بائی اے وائر کو بین الاقوامی سطح پر معروف کانز فلم فیسٹول میں پیش کیا جائے گا۔
اس اعزاز کا اعلان خود فلمساز نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کیا، جہاں انہوں نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا اہم لمحہ قرار دیا۔
ہینگنگ بائی اے وائر ایک سنسنی خیز ریسکیو آپریشن پر مبنی ہے جو اگست 2023ء میں خیبر پختونخوا کے ایک پہاڑی علاقے میں پیش آیا تھا۔
اس واقعے میں ایک کیبل کار، جس میں اسکول کے چھ بچوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے، کیبل ٹوٹنے کے باعث تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر لٹک گئی تھی۔
اس خطرناک صورتحال کے بعد پاک فوج اور دیگر اداروں کی مدد سے کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
محمد علی نقوی نے اس فلم کی تیاری میں شامل تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کامیابی کو ایک اجتماعی کوشش قرار دیا۔
اس دستاویزی فلم کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی پاکستان کے لیے دستاویزی فلم سازی کے میدان میں ایک سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
فلم کے اس اعزاز کو پاکستان کی دستاویزی فلم سازی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے اور اس کی کامیابی عالمی سطح پر پاکستان کی سینما کی بڑھتی ہوئی شناخت کا ایک مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: دستاویزی فلم
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔