لاہور:

سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ انڈیا میں جو بی جے پی کی گورنمنٹ ہے ، نریندر مودی ہیں وہ اسی سیاست سے انھوں نے انڈیا میں اپنا اتنا بڑا ووٹ بینک کری ایٹ کیا ہے، ان سے ایکسپیکٹ یہ کرنا کہ ایک دم سے سینس ایبل بات کرنا شروع کر دیں گے تو یہ نہیں ہو سکتا.

ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ آرٹیکل لکھنے کا مقصد میرا یہ تھا کہ انڈیا میں بھی ایک بہت بڑی کانسٹیٹیونسی ہے جو مودی کیخلاف بھی ہے اس لیے میرے خیال میں پولیٹیکل اسپیس بھی موجود ہے اس آرگیومنٹ کے لیے، ظاہر ہے کہ جب کوئی کنفلیکٹ ہوتا ہے تو اس کا نقصان بھی انڈیا کو زیادہ ہوتا ہے.

 

رہنما مسلم لیگ (ن) خرم دستگیر نے کہا کہ اچھا ہوتا وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ جو تمام سیاسی جماعتوں کیلیے کی گئی تھی4مئی کو اس میں آ جاتے، جب پاکستان بہت تناؤ کا شکار تھا لیکن انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ نہیں آئیں گے، اگرچہ ہم اس بات کو سراہتے ہیںکہ انھوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جو قراردادیں آئیں ان کی حمایت کی لیکن یہ جو حمایت آئی ہے اپوزیشن کی طرف سے وہ نیم دلانہ تھی، یہ کوئی آخری سفارتی مشن نہیں ہے، اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گفتگو ہوتی ہے کوئی اعتماد سازی ہوتی ہے تو آنے والے وفود میں ان کو شامل کیا جائے گا. 

چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ میں صرف یہ وضاحت کرنا چاہ رہا ہوں کہ یہ جو اسکیم آئی تھی ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس ) اس اسکیم کا پرپز کچھ اور تھا، اس اسکیم کے بنیادی طور پر دو پرپز تھے، پہلا اس کا پرپز یہ تھا کہ پوری آپ کی ڈومیسٹک ویلیو چین اور ساتھ ساتھ آپ کی جو امپورٹ ہے وہ دونوں بغیر جی ایس ٹی کے آپریٹ کریں کیونکہ جب 18پرسنٹ جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے تو یا تو وہ ان پٹ ، آؤٹ پٹ میں ایڈجسٹ ہوتا ہے یا وہ ایکسپورٹ کی شکل میں ریفنڈمیں جاتا ہے

کامران ارشد نے مزید کہا کہ آپ کو پتہ ہے ہمارے ریفنڈ مہینوں مہینوں، سالوں سال پھنسے رہتے ہیں ایف بی آر میں اور ایف بی آر اس میں اپنی من مانی اور مرضی کرتا ہے، اس سکیم کا پرپز یہ تھا کہ آپ کی ساری ڈومیسٹک ویلیو چین رجسٹر ہو اور وہ اس اسکیم کا حصہ بنے تاکہ جی ایس ٹی ادا نہ کرنا پڑے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انھوں نے ہوتا ہے کہا کہ

پڑھیں:

نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت