اسلام آباد:

وزیر اعظم شہباز شریف نے نیشنل فسکل پیکٹ پر عملدرآمد کی نگرانی کیلیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی، کمیٹی کی ذمے داریوں میں صوبوں میں قرضوں کے بوجھ کی شیئرنگ پر اتفاق رائے پیدا کرنا اورآبی انفراساٹرکچر کی  ہنگامی تعمیر  شامل ہیں۔

وزیر اعظم آفس کی جاری ہدایات کے مطابق اسحق ڈار اور بلاول بھٹو زرداری آٹھ رکنی کمیٹی کے شریک چیئرپرسن ہونگے، ارکان میں دفاع، منصوبہ بندی، خزانہ، معاشی امور، قانون و انصاف کے وزراء اور اٹارنی جنرل آف پاکستان شامل ہیں۔

کمیٹی میں پی ٹی آئی کا کوئی نمائندہ شامل نہیں جو خیبر پختونخوا کی حکمران اور جس کی حمایت کے بغیر نیشنل فسکل پیکٹ کے  ذریعے آئی ایم ایف کے طے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: نئے بجٹ میں جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.

4 اور زرعی شعبے کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کیے جانے کا امکان

آئی ایم ایف کی ایک شرط کے تحت نیشنل فسکل پیکٹ پر ستمبر2024 میں وفاقی و صوبائی وزرائے خزانہ نے دستخط کئے، مگر اس پر عملدرآمد سست کا شکار رہا، کیونکہ صوبے خصوصاً سندھ  بعض مالی ذمہ داریاں لینے سے گریزاں ہیں۔ فسکل پیکٹ کا ایک مقصد  مالی ذمہ داریوں میںازسرنو توازن اور وفاق وصوبوں کی ٹیکسیشن پالیسیوں میں بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

آئی ایم ایف اسٹاف لیول رپورٹ کے مطابق نئے مالی سال کے دوران ایسے ترقیاتی منصوبے جن کا فائدہ صرف ایک صوبے تک محدود ہو، ان کی فنڈنگ براہ راست صوبائی بجٹ سے ہو گی۔ وزیراعظم آفس کی ہدایات کے مطابق فنانس ڈویژن کمیٹی کا سیکرٹریٹ ہو گا،کمیٹی دس روز کے اندر تمام ایسی تجاویز شیئر کرے گی جن پر وفاقی و صوبائی بجٹ میں غور ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت کی آئی ایم ایف کو نان فائلرز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی یقین دہانی 

کمیٹی کی دیگر اہم ذمہ داریوں میں قرضوں کی بوجھ کی شیئرنگ سمیت  قومی اہمیت کے مسائل و چیلنجزپر اتفاق رائے  اور آبی سکیورٹی کیلئے انفراسٹرکچر کو ترقی دینا شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں سود کی ادائیگی 87 کھرب تک پہنچنے کا امکان ہے، وفاقی حکومت اس خرچے کا کچھ حصہ صوبوں کو منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم آئین کے تحت صوبے اس مالی ذمہ داری کو شیئر کرنے کے پابند نہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت کی آئی ایم ایف کو بجلی، گیس، پیٹرول مہنگا کرنے کی یقین دہانی، عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جائے گا

وزیراعظم آفس کے مطابق سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے  بعد  جنگی بنیادوں پر نئے آبی ذخائر کی تعمیر کی ضرورت ہے،کمیٹی اس میں موثر کردار کے علاوہ نیشنل فسکل پیکٹ کے تحت تمام نکات پر بروقت عملدرآمد میں کو یقینی بنائے گی۔

کمیٹی عملدرآمد میں چیلنجز اور وفاق، صوبوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈر کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کے پلیٖف فارم کا بھی کردار ادا کرے گی۔ آئی ایم ایف نے سفارش کیلئے کہ حکام ایک فریم ورک تیار کریں جوکہ صوبوں کی رہنمائی کرے کہ وہ سرکاری سکیورٹیز میں  جمع نقد سرپلس کی غیر مسابقی بولی کے ذریعے سرمایہ کاری کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے مطابق

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف