پاک بھارت کشیدگی: آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کردیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
آئی ایم ایف نے پاک بھارت کشیدگی کے سبب معیشت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط مزید سخت کردی ہیں.
ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف نے پاک بھارتی کشیدگی برقرار رہنے یا اس میں اضافہ ہونے کو معیشت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نئے مالی سال کے بجٹ اہداف پر پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں آئی ایم ایف مشن نے ٹیکس ریونیو بڑھانے، اخراجات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے ماحولیاتی خطرات کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو محدود کرنے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی معیشت کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے قرض پروگرام کی اگلی اقساط کیلئے شرائط بھی مزید سخت کی ہیں۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی بڑھنے سے کاروبار بھی متاثر ہوسکتا ہے، قرض پروگرام معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کیلئے ڈیزائن کیا ہے پاکستان پروگرام پر مضبوطی سے کاربند رہنے کیلئے پرعزم ہے۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا، غیریقینی صورتحال کے منفی خطرات میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عدم استحکام سے مالی، بیرونی اور اصلاحاتی ایجنڈا متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ امریکی اضافی ٹیرف کے بھی پاکستانی معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے خصوصی اقتصادی زونز کو حاصل ٹیکس مراعات بتدریج ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی بروقت ایڈجسٹمنٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کلائمیٹ فنڈز دوسرے اقتصادی جائزے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کیا ہے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔