پاکستانی قوم نہ تو پہلے جھکی تھی اور نہ ہم اب جھکیں گے، ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے: ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان پہلے جھکا ہے نہ اب جھکے گا، ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے۔چائنہ میڈیا گروپ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کیساتھ کشیدگی، پاک چین تعلقات اور خطے کی صورتحال پر اپنا موقف پیش کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے چائنہ میڈیا گروپ کے ہر سوال کا مفصل اور حقائق پر مبنی جواب دیا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ دنیا کے جتنے بھی ممالک ہیں سب کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جو بڑے ممالک ہیں ان کا ویژن بھی بڑا ہے، لوگ انسانیت کی ترقی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نہ تو پہلے جھکی تھی اور نہ ہم اب جھکیں گے، پہلے بھی کہتا رہا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ ہماری شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے، چاہے کسی نے نیلی، سفید یا خاکی وردی پہن رکھی ہے شہادت ہمارے لئے اعزاز ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ پاکستان اور چین دنیا میں دو ذمہ دار ملک ہیں، پاکستان اور چین دونوں کی پہلی ترجیح لوگوں کی فلاح و بہبود ہے، لوگوں کی خوشحالی ہمیشہ امن و استحکام سے آتی ہے، پاکستان اور چین دونوں کی خطے میں امن و استحکام کیلئے کوشاں ہیں، اس کیلئے ہم دہشتگردی کی لعنت سے لڑ رہے ہیں، دہشتگردی کا مقصد ہی ترقی کو روکنا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ چین نے انتہائی کم عرصے میں اتنی بڑی آبادی کے ساتھ جو ترقی کی ہے اسے دنیا کو دیکھنا چاہئے، پاکستان کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم ترقی اور استحکام کی جانب جائیں۔انہوںنے کہا کہ ہماری پہلی ترجیح امن ہے، پاکستان کی گلیوں میں دیکھیں تو آپ کو فتح نہیں امن کی خوشی مناتے لوگ نظر آئیں گے، پاکستان کے لوگوں میں آپ کو انسانیت نظر آئے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم عاجزی کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ ہم امن پسند ہیں، آپ دیکھیں گے کہ انشا اللہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔