ایف پی سی سی آئی کا حکومت سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس پر نظرثانی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
ایف پی سی سی آئی نے حکومت سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے وفاقی حکومت سے انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے تمام چیمبرزاور ایسوسی ایشنز نے انکم ٹیکس آرڈیننس کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس افسران کو اکاؤنٹس منجمد، پیسے نکالنے کے لامحدود اختیارات دینا درست نہیں ۔ اس اقدام سے ٹیکس ریکوریز میں اضافے کے بجائے کرپشن میں اضافہ ہو گا ۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ تاجر برادری کو ترمیمی آرڈیننس پر سخت تحفظات ہیں ، حکومت اس پر نظر ثانی کرے ۔ حکومت معیشت اور تاجر دشمن اقدامات کے بجائے بزنس کمیونٹی کو سہولیات دے۔
صدر ایف پی سی سی آئی کا کہنا تھا کہ وفاق ایوانہائے تجارت و صنعت تاجروں کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناتے آرڈیننس کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ حکومت قانون سازی سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنائے جب کہ ایف پی سی سی آئی ٹیکس کلیکشن میں اضافے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف پی سی سی آئی انکم ٹیکس کا مطالبہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔