خیبر پختونخوا میں شدید گرمی، ہیٹ ویو کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اس دوران دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 5 تا 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے جو کہ عوامی صحت اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں آج سے 24 مئی تک گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق اس دوران دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے 5 تا 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے جو کہ عوامی صحت اور روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔ صوبے کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کی شدت برقرار رہے گی جبکہ بالائی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث آبی ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث گرد و غبار اور تیز ہواؤں کی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مراسلے میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر سورج کی تیز روشنی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کے استعمال میں اضافہ کریں تاکہ ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکے۔ بزرگ افراد اور بچوں کو بالخصوص صبح 10 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان دھوپ میں نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے نے کسانوں کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ فصلوں کی کٹائی کے دوران احتیاط برتیں اور جانوروں کا خصوصی خیال رکھیں۔ ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ گرمی کی اس لہر کے دوران عوامی آگاہی مہم جاری رکھی جائے گی تاکہ لوگ بر وقت احتیاطی اقدامات اٹھا سکیں۔
مزید برآں تمام ہیلتھ و میڈیکل سروسز، پیرا میڈیکس اور ریسکیو ڈیپارٹمنٹس کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس دوران تمام ہیٹ اسٹروک سینٹرز کو فعال رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری نمٹا جا سکے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ سفر سے قبل اپنی گاڑیوں کے انجن میں پانی اور ٹائروں میں پریشر لازمی چیک کریں تاکہ گرمی کے باعث کسی ممکنہ خرابی سے بچا جا سکے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔