وادی کشمیر میں ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ" کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
آغا سید حسن الموسوی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ انجمن شرعی شیعیان کے پلیٹ فارم سے نہ صرف روحانی و مذہبی خدمات انجام دی جائیں بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات خصوصاً تعلیم، صحت اور روزگار میں بھی عملی کردار ادا کیا جائے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
انجمن شرعی شیعیان و پارس ہیلتھ کیئر کا ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ"
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان اور پارس ہیلتھ کیئر کے باہمی اشتراک سے مرکزی امام بارگاہ ضلع بڈگام میں ایک روزہ مفت "میگا ہیلتھ کیمپ" کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ ضلع بڈگام بدقسمتی سے صحت سہولیات کے اعتبار سے شدید طور پر نظر انداز شدہ اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں نہ مناسب طبی انفراسٹرکچر دستیاب ہے اور نہ ہی ماہر ڈاکٹروں کی مستقل موجودگی، ایسے میں غیر سرکاری سطح پر عوامی فلاح کے لئے ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ انجمن شرعی شیعیان کے پلیٹ فارم سے نہ صرف روحانی و مذہبی خدمات انجام دی جائیں بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات خصوصاً تعلیم، صحت اور روزگار میں بھی عملی کردار ادا کیا جائے۔ پارس ہیلتھ کیئر کی میڈیکل ٹیم نے کیمپ میں درجنوں مریضوں کا مفت چیک اپ کیا۔ آغا سید حسن موسوی نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ضلع بڈگام میں جدید طبی سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور سنجیدہ اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو مناسب علاج کے لئے سرینگر یا دیگر اضلاع کی طرف رخ نہ کرنا پڑے۔ آخر میں آغا سید حسن موسوی نے پارس ہیلتھ کیئر کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ایسے کیمپ مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔