وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ قیامت تک یاد رکھے گا، پاک بحریہ اس بار بھی 1965کی طرح دوارکا کی تاریخ دہرانے کے لیے تیار تھی مگر پاک بحریہ کی تیاری دیکھ کر دشمن کی ہمت نہیں ہوئی۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی تسلط کے سامنے جھکے گا نہیں اور بھارت جتنی جلدی یہ بات سمجھ جائے اچھا ہے۔ یہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے اچھا ہوگا۔
پاک فوج کی دشمن پرکامیابی نے جہاں ہم وطنوں کے دل جیتے ہیں، وہیں پاکستانی قوم کا امن پسند بیانیہ دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے۔ پاکستان نے بہترین سفارت کاری سے، بھارت کو سیاسی، سفارتی، سائنسی، میڈیا اور عوامی ہر میدان میں چاروں شانے چت کردیا ہے۔
سیزفائر بظاہر ایک عارضی امن کا ذریعہ ہے، لیکن بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے حالیہ بیان، جس میں انھوں نے دوبارہ پاکستان پر حملے کی دھمکی دی ہے، اس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے کسی بھی وقت دوبارہ مہم جوئی کرسکتا ہے۔ بھارتی حکومت ایک عرصے سے اپنی عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹانے کے لیے پاکستان دشمنی کو استعمال کرتی آئی ہے۔ پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن اور پھر پاکستان پر الزام تراشی اسی ذہنی کیفیت کا تسلسل ہے مگر حالیہ شکست نے نریندر مودی کی قیادت کو اندرونی طور پر مزید کمزور کردیا ہے۔
ایسے میں وہ دوبارہ جنگی ماحول بنا کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ بھارتی جنگی جنون نے ہمیشہ پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ بنے رہنے پر مجبور کیا ہے مگر پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستانہ مراسم اور امور محبت دوستانہ راہداریاں کشادہ کرنے کی بات کی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق پاک بھارت تنازع نے پاکستان کو سفارتی برتری دے دی، جس کو سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ شیام سرن نے بھارت کے لیے سفارتی ناکامی قرار دیا ہے، بھارت کے لیے یہ اس لیے ناکامی اس تنازع نے پاکستان کو سفارتی برتری دلا دی ہے۔
افواجِ پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ اور پاک بحریہ جس’ قوت‘ سے لیس تھی ، اس کا اندازہ بھارت تو کیا، طاقتور مغربی دارالحکومتوں کو بھی نہیں تھا، جس سرعت اور توانائی کے ساتھ پاک فضائیہ نے پلٹ کر وار کیا، اس نے بھارت کی فضائی برتری کی عشروں پرانیMyth توڑکر رکھ دی۔ جب کہ پاک بحریہ کی تیاری دیکھ کر ہی بھارت چپ ہوگیا۔
بھارت کی حالت اب اس عظیم الجثہ پہلوان کی سی ہے کہ جسے کئی گنا کمزور دکھائی دینے والے مقابل نے اکھاڑے میں اُترتے ہی اُٹھا کر زمین پر پٹخ دیا ہو۔ اپنی خفت مٹانے کو بھارتی پالیسی اب ’New Normal‘ کے نام پر ایک نیا ڈاکٹرائن عام شہریوں کو دکھاتے پھررہے ہیں۔
عسکری امورکے کئی ماہرین کے نزدیک بھارت کے اندر کسی بھی دہشت گردی کے جواب میں اُس کی جانب سے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی اس پالیسی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ملک اب مسلسل حالتِ جنگ میں رہیں گے۔ دوسری جانب پاکستان نے مگر ثابت کر دیا ہے کہ ایسے کسی بھارتی حملے کے جواب میں وہ بھارت کے ساتھ روایتی جنگ میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حالیہ رد عمل نے خطے میں عسکری توازن پیدا کر دیا ہے۔ بھارت جو بھی کہے، اب یہی ’ نیو نارمل‘ ہے۔ یہ ردعمل دینے کی صلاحیت ہمیں راتوں رات نصیب نہیں ہوئی۔
اس صلاحیت کے حصول کے پیچھے ان تمام سیاسی اور فوجی حکومتوں اور قومی اداروں کے اندر ایک گھمنڈی پڑوسی سے نبرد آزما ہونے کی عشروں پر محیط Perrenial quest کار فرما رہی ہے۔ پردے کے پیچھے شہرت سے بے نیاز ہزارہا غازی، سائنسدان اور ہنرمند طلسمی تخلیقات میں دن رات مگن رہے ہیں۔ ہمارے دفاعی اخراجات پر بجا طور پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ وقت نے مگر ثابت کیا ہے کہ ایک بد طینت دائمی دشمن کی موجودگی میں اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنی جنگی روش پر برقرار رہتے ہوئے پانی روکنے اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ باہمی مذاکرات نہ کرنے کے اپنے سخت مؤقف پر قائم ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ 2019میں کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور الحاق کے ان کی حکومت کے یک طرفہ فیصلے کے بعد مسئلہ کشمیر حل ہوچکا ہے۔
انھوں نے واضح کیا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر پر ہوں گے۔جس امر نے بھارتی وزیر اعظم کو سب سے زیادہ مشتعل کیا وہ یہ ہے کہ حالیہ محاذ آرائی نے اقوامِ عالم کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر متوجہ کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر اور دیگر مسائل پر ثالثی کی پیش کش نے مودی کو مشتعل کیا ہے جوکہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ان کے پہلے خطاب میں عیاں تھا۔ مودی حکومت نے بھارت کے اس دیرینہ مؤقف کو برقرار رکھا ہے کہ وہ بین الاقوامی ثالثی کو قبول نہیں کرے گا جسے بھارت نے دونوں ممالک کا معاملہ قرار دیا ہے۔
پہلگام میں 2 درجن سے زائد افراد کے قتل کے بعد مودی حکومت نے دو جہتی نقطہ نظر اختیار کر کے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار کو پاکستان کے مرکزی شہروں تک وسعت دیتے ہوئے، نئی دہلی نے اسلام آباد کو بین الاقوامی سطح پر بھی تنہا کرنے کی کوشش کی۔ 2019کے برعکس اس بار فوجی کارروائی کے لیے اسے واشنگٹن اور دیگر مغربی اتحادیوں کی حمایت نہ مل سکی۔ ٹرمپ نے تنازع میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا جو کہ مودی حکومت کے لیے بڑا سفارتی دھچکا تھا کیونکہ بھارت خود کو امریکا کا اہم اسٹرٹیجک اتحادی سمجھتا ہے۔ اس سے پاکستان کو ’سزا دینے‘ کی بھارتی حکمت عملی ناکام ہوگئی۔
یہ کامیابی اس وقت اور بھی خوشی کا سبب بن جاتی ہے، جب دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدرکھلے عام پاکستانی قوم کی ذہانت، عسکری صلاحیت، سیاسی بصیرت اور تعاون کو سراہتا ہے تو یہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ عالمی سفارت کاری کے تانے بانے میں ایک بڑی تبدیلی کا اعلان ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے نظر آرہے ہیں کہ امریکا اب پاکستان کو نظرانداز نہیں کرے گا بلکہ تجارتی، دفاعی اور سیاسی میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دے گا۔
ماضی کے تلخ تجربات، افغان جنگ، ڈرون حملوں اور باہمی بد اعتمادی کی دھند میں امریکی صدرکی طرف سے یہ اعتراف کسی بھی طور اعزاز سے کم نہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا سربراہ پاکستان کے کردار کو اس قدر اہم سمجھا رہا ہے۔ پاکستان کے برعکس امریکی صدر ٹرمپ بھارت کے تجارتی رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت سے کاروبار بہت مشکل ہے اس لیے کہ ’’ دنیا میں سب سے زیادہ ٹیرف بھارت لیتا ہے۔‘‘
ان کے اس بیان نے بھارت کے عالمی تجارتی کردار پرکئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایپل کو بھارت میں سرمایہ کاری سے روک دیا بلکہ ہدایت کی کہ وہ امریکا میں صنعت لگائے تاکہ مقامی معیشت کو فروغ ملے۔ اس کے برعکس انھوں نے پاکستان کے ساتھ کاروباری تعلقات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا اور پاکستانی قوم کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ امریکی صدر پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، امن کے قیام میں کردار اور بین الاقوامی امور میں متوازن رویے کو سراہا رہا ہے۔
بھارت کی داخلی انتہا پسند پالیسیوں، مذہبی اقلیتوں کے خلاف جارحیت اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی نے امریکا کو مجبورکیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں توازن قائم رکھنے کے لیے پاکستان کو دوبارہ سنجیدگی سے لے۔ اسی طرح پاکستانی سیاسی قیادت کو بھی مثبت انداز میں پیش کیا گیا، جو ایک طویل عرصے کے بعد کسی امریکی صدر کی جانب سے پذیرائی کا مظہر ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی جمہوری، عسکری اور سفارتی قیادت بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
امریکا کی اس نئی سوچ کا جواب پاکستان کو نہایت دانشمندی اور بالغ نظری سے دینا ہو گا۔ ہمیں داخلی استحکام، ادارہ جاتی مضبوطی، شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات کے ذریعے ایک قابلِ بھروسہ ریاست کا تاثر قائم رکھنا ہوگا۔
صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنی سفارتی ٹیموں کو فعال بنانا ہوگا تاکہ یہ موجودہ موقع کو دیرپا مفاد میں بدل سکیں۔ سی پیک کی صورت میں پاکستان پہلے ہی چین کے ساتھ ایک مضبوط اقتصادی راستہ اختیار کر چکا ہے۔ اب اگر امریکا کے ساتھ بھی معاشی تعلقات بہتر ہو جاتے ہیں تو پاکستان کے لیے ایشیا کے مرکز میں ایک ’’بزنس حب‘‘ بننے کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی پاکستان کو پاکستان کے امریکی صدر پاک بحریہ نے بھارت بھارت کے کے ساتھ کیا ہے کے بعد ہیں کہ کہ پاک کے لیے دیا ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس