فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر خصوصی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں جی ایچ کیو میں یادگار شہداء پر خصوصی گارڈ آف آنر کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے یادگارِ شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ یہ اعزاز پوری پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کے بہادر سپوتوں کےلیے ہے، بالخصوص ان شہداء کےلیے جو بھارت کی بلااشتعال، بزدلانہ اور غیرقانونی جارحیت کے خلاف فولادی دیوار بن کر کھڑے رہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دشمن کو شکستِ فاش دینے پر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
فیلڈ مارشل نے یہ اعزاز سول، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والوں کے نام منسوب کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (نشانِ امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دی تھی۔
اعلامیے کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمتِ عملی اور دشمن کو شکستِ فاش دینے پر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔