پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کروانے میں بی ایل اے کی سہولت کاری بےنقاب
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کروانے میں بی ایل اے کی سہولت کاری بےنقاب ہوگئی، آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے لگیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 مئی 2025ء کے بعد بھارت کے مختلف نامی اور بی نامی سوشل میڈیا ہینڈلزر نے بلوچستان پر حملوں کی دھمکیاں دیں، بھارتی اسپانسرڈ کالعدم بی ایل اے کے ذریعے بھارت، بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 21 مئی کو خضدار میں بی ایل اے نے اسکول بس پر بزدلانہ حملہ کیا، خودکش حملہ اسی سازش کی کڑی، دہشت گرد حملے میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید ہوئے جبکہ متعدد بچے شدید زخمی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مودی حکومت بھارتی عوام کی اپنی شکست سے توجہ ہٹانے کے لیے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی متعدد پریس بریفنگز میں بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے شواہد منظر عام پر لائے جا چکے ہیں، بھارتی حکومت کے زیر سرپرستی ریاست راجستھان میں پاکستان میں دہشتگردوں کی تربیت کیلئے 21 کیمپ موجود ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کا واضح اعتراف موجود ہے، جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گرد بھارتی سہولت کاروں سے افغانستان میں رابطے میں تھے، بھارت کی سیاسی قیادت اور بھارتی میڈیا پاکستان میں بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، بھارت کی ریاستی دہشت گردی پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق بھارت سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان، بھارتی دہشت گردی کی ہر شکل کو پاکستان سے جڑ سے اکھاڑے کر رہے گا،
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی سیکیورٹی ذرائع ذرائع کے مطابق میں بی ایل اے
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔