Islam Times:
2026-07-24@05:13:51 GMT

دہشت گرد بھارت کی پراکسی ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

دہشت گرد بھارت کی پراکسی ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردوں کیجانب سے معصوم بچوں کو نشانہ بنانیکی توقع نہیں تھی۔ ہم انکے خون کا بدلہ لینگے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ یہ پتہ تھا کہ دشمن جنگ کی شکست کی سبکی مٹانے کے لیے بلوچستان کو چن سکتا ہے۔ ہم ان کے خون کا بدلہ لیں گے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ خضدار میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی بس میں 44 بچے سوار تھے۔ خضدار دہشت گرد حملے میں 4 بچوں سمیت 6 افراد شہید ہوئے، شہداء میں بس ڈرائیور اور ہیلپر بھی شامل ہیں۔ شدید زخمیوں کو ایئر لفٹ کرکے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعے کی ٹھوس انٹیلی جنس معلومات تھیں، لیکن معصوم بچوں کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں تھی، بچوں کو بے دردی سے شہید اور زخمی کیا گیا۔ دشمن اتنا گر جائے گا کہ معصوم بچوں کے سافٹ ٹارگٹ چنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کے خون کا بدلہ لیں گے۔ جس طرح ٹرین واقعے، نوشکی واقعے میں ملوث دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، اس واقعے میں ملوث عناصر کو بھی جہنم واصل کیا جائے گا۔ جنہوں نے یہ حرکت کی ہے حکومت اور ریاست ان کو چن چن کر جہنم واصل کرے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ لوگ بھارت سے پیسے لے کر لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ افغان عبوری حکومت کو یاد دلاتا ہوں کہ آپ کی سرزمین بار بار ہمارے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ دہشت گرد بھارت کی پراکسی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ دہشت گردی اور تشدد کو کوئی اور نام دیا جاتا ہے، اس مائنڈ سیٹ سے نکل آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان لوگوں کو چن چن کر مار سکتے ہیں، دہشت گردوں کی اتنی استعداد نہیں، لیکن ریاست سب کچھ کرسکتی ہے۔ اب فیصلہ کرنا ہوگا، خاموش تماشائی کا کردار نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات میں آپریشن کے دوران لوگوں کو منتقل کیا گیا تھا۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگوں کو منتقل کیا جائے، سوات کے لوگوں نے ریاست کے لیے قربانی دی، اسی وجہ سے وہاں امن قائم ہوا۔ سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال 280 سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ لائے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی نے کہا کہ لوگوں کو

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار