ٹک ٹاک نے انسٹاگرام طرز کے نئے فیچر ’بلٹن بورڈز‘ کی آزمائش شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام طرز کے نئے فیچر ’بلٹن بورڈز‘ کی آزمائش شروع کردی ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ کے مطابق، ٹک ٹاک ایک نیا فیچر ’بلٹن بورڈز‘ متعارف کروا رہا ہے جو انسٹاگرام کے براڈکاسٹ چینلز کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔
اس فیچر کے تحت تخلیق کار (کریئیٹرز) اور برانڈز اپنے فالورز کے ساتھ براہِ راست اور یک طرفہ انداز میں معلومات اور اپ ڈیٹس شیئر کر سکیں گے۔
مذکورہ فیچر کی آزمائش ابتدائی طور پر منتخب صارفین کے ایک گروپ کے ساتھ کی جا رہی ہے، جن میں پیپل میگزین، فٹبال کلب پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) اور مشہور گلوکار گروپ جوناس برادرز شامل ہیں۔
بلٹن بورڈز میں صرف تخلیق کار یا برانڈ مواد شیئر کر سکتے ہیں، جب کہ فالورز کو صرف ایموجیز کے ذریعے ردعمل دینے کی اجازت ہوگی۔
مذکورہ فیچر پر ویڈیوز، تصاویر اور متن جیسے مختلف انداز میں پیغامات بھیجے جا سکتے ہیں، اس کی مدد سے برانڈز اور مشہور شخصیات اپنے فالورز کو براہِ راست معلومات فراہم کر سکیں گے، جیسے کہ نئی اپ ڈیٹس، پروجیکٹس یا ذاتی پیغامات۔
انسٹاگرام نے 2023 میں براڈکاسٹ چینلز کا آغاز کیا تھا، جو دنیا بھر میں کامیاب رہا، اب ٹک ٹاک اسی ماڈل پر کام کر رہا ہے تاکہ صارفین کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنایا جا سکے۔
قبل ازیں بھی ٹک ٹاک نے انسٹاگرام اسٹوریز سے مشابہ ایک فیچر متعارف کرایا تھا، جو وقت کے ساتھ صارفین میں مقبول ہوا۔
فی الحال یہ فیچر محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے، تاہم جلد ہی اسے عالمی سطح پر متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکہ سے مذاکرات کس شرط پرہوں گے ،ایران نے بتادیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بلٹن بورڈز کے ساتھ ٹک ٹاک
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔