ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس “سٹار لنک” نے بنگلہ دیش میں باقاعدہ طور پر اپنی سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اب بنگلہ دیش کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے گی، جہاں روایتی براڈبینڈ یا موبائل نیٹ ورک اکثر ناقابلِ اعتماد یا دستیاب نہیں ہوتے ۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے اپنے فیس بک پیج پر کیا۔

اس پیش رفت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش، بھوٹان کے بعد خطے کا دوسرا ملک بن گیا ہے جہاں سٹار لنک کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ بھارت اور پاکستان اب بھی اس سروس کے باقاعدہ آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق بھارت میں کمپنی کو منظوری تو مل چکی ہے لیکن ابھی تک سروس لانچ نہیں کی گئی، جبکہ پاکستان میں سٹار لنک کو عارضی لائسنس ملا ہے تاہم بعض تکنیکی اور دستاویزی امور کی وجہ سے آپریشنز کا آغاز نہیں ہو سکا۔

سٹار لنک زمین پر موجود انفراسٹرکچر پر انحصار کرنے کی بجائے زمین کے نچلے مدار (Low Earth Orbit) میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں دور دراز علاقوں، پہاڑی علاقوں، دیہی بستیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں بھی صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے ویڈیو کالز، آن لائن گیمنگ، سٹریم سروسز اور ریموٹ ورک جیسے جدید تقاضے بخوبی پورے کر سکیں گے۔

انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سٹار لنک کی سروس بنگلہ دیش میں ہر ماہ تقریباً 4200 ٹکا میں دستیاب ہوگی، جو کہ امریکی کرنسی میں تقریباً 35 ڈالر یا پاکستانی روپوں میں تقریباً 9800 روپے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو ایک مرتبہ کے لیے 47 ہزار ٹکا (تقریباً ایک لاکھ 9 ہزار روپے) کا سامان خریدنا ہوگا، جس میں سٹار لنک ڈِش اور روٹر شامل ہیں ، یہ دونوں سیٹلائٹ سگنلز وصول کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ نرخ عام صارفین کے لیے مقرر کیے گئے ہیں یا تجارتی اداروں کے لیے بھی یہی قیمت ہوگی۔ بہرحال ایک عام بنگلہ دیشی صارف کے لیے یہ قیمت خاصی بلند ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کا خطے کا چوہدری بننے کا خواب ختم ہو گیا، مصدق ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش میں سٹار لنک کے لیے

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ