پاکستان اور انڈیا سے پہلے بنگلہ دیش میں سٹار لنک انٹرنیٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا، ماہانہ فیس کتنی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس “سٹار لنک” نے بنگلہ دیش میں باقاعدہ طور پر اپنی سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اب بنگلہ دیش کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے گی، جہاں روایتی براڈبینڈ یا موبائل نیٹ ورک اکثر ناقابلِ اعتماد یا دستیاب نہیں ہوتے ۔ اس اہم پیش رفت کا اعلان بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے اپنے فیس بک پیج پر کیا۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی بنگلہ دیش، بھوٹان کے بعد خطے کا دوسرا ملک بن گیا ہے جہاں سٹار لنک کی سہولت دستیاب ہے، جبکہ بھارت اور پاکستان اب بھی اس سروس کے باقاعدہ آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق بھارت میں کمپنی کو منظوری تو مل چکی ہے لیکن ابھی تک سروس لانچ نہیں کی گئی، جبکہ پاکستان میں سٹار لنک کو عارضی لائسنس ملا ہے تاہم بعض تکنیکی اور دستاویزی امور کی وجہ سے آپریشنز کا آغاز نہیں ہو سکا۔
سٹار لنک زمین پر موجود انفراسٹرکچر پر انحصار کرنے کی بجائے زمین کے نچلے مدار (Low Earth Orbit) میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں دور دراز علاقوں، پہاڑی علاقوں، دیہی بستیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں بھی صارفین بغیر کسی رکاوٹ کے ویڈیو کالز، آن لائن گیمنگ، سٹریم سروسز اور ریموٹ ورک جیسے جدید تقاضے بخوبی پورے کر سکیں گے۔
انڈیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سٹار لنک کی سروس بنگلہ دیش میں ہر ماہ تقریباً 4200 ٹکا میں دستیاب ہوگی، جو کہ امریکی کرنسی میں تقریباً 35 ڈالر یا پاکستانی روپوں میں تقریباً 9800 روپے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ صارفین کو ایک مرتبہ کے لیے 47 ہزار ٹکا (تقریباً ایک لاکھ 9 ہزار روپے) کا سامان خریدنا ہوگا، جس میں سٹار لنک ڈِش اور روٹر شامل ہیں ، یہ دونوں سیٹلائٹ سگنلز وصول کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ نرخ عام صارفین کے لیے مقرر کیے گئے ہیں یا تجارتی اداروں کے لیے بھی یہی قیمت ہوگی۔ بہرحال ایک عام بنگلہ دیشی صارف کے لیے یہ قیمت خاصی بلند ہے۔
مزیدپڑھیں:بھارت کا خطے کا چوہدری بننے کا خواب ختم ہو گیا، مصدق ملک
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش میں سٹار لنک کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔