قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا سیمینار سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
خطاب میں سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک جامع جائزہ پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ سکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز قائداعظم یونیورسٹی کے زیراہتمام علاقائی اور عالمی مسائل پر اسلامی جمہوریہ ایران کا نقطہ نظر کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار سے پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر محترم ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے خطاب کیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نازش محمود نے سفیر کا خیرمقدم کیا۔ سیمینار میں فیکلٹی ممبران، اسکالرز اور طلباء نے شرکت کی۔
سیمینار کا آغاز ایس پی آئی آر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سید قندیل عباس کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جنہوں نے مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں ایران کے کردار کو سیاق و سباق کیساتھ پیش کیا۔ انہوں نے علاقائی تنازعات بالخصوص فلسطین، یمن، عراق اور شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو اجاگر کیا۔ فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے ایرانی سفیر کا خیرمقدم کیا اور علاقائی جغرافیائی سیاست میں ایران کی اسٹریٹجک مطابقت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ ایران کے ابھرتے ہوئے تعلقات، خاص طور پر اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان اور ترکی کے ساتھ تعاون کی صلاحیت کے بارے میں گفتگو کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران کی خارجہ پالیسی کا ایک جامع جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے سرد جنگ کے دور کی نظریاتی قطبیت، مغرب کے یک قطبی تسلط، اور اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو درپیش قانونی حیثیت کے موجودہ بحران کی عکاسی کی۔
انہوں نے زور دیا کہ عصری طاقت کے اشارے علم، ٹیکنالوجی اور اقتصادی ترقی میں مضمر ہیں، کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود، ایران نے نینو ٹیکنالوجی جیسے سائنسی شعبوں میں قابل ذکر ترقی کی ہے اور تعلیم، اختراعات اور علاقائی تعاون کو ترجیح بنا رکھا ہے۔ سفیر نے ایران کے جوہری نظریے اور اس کے پرامن افزودگی پروگرام سے لے کر ایرانی معاشرے میں خواتین کی حیثیت، ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات اور وسیع تر علاقائی استحکام تک کے موضوعات پر طالب علموں کے سوالات کا بھی جواب دیا۔
ان کے واضح جوابات نے اعتماد، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کی فضا کو فروغ دیا۔ سفیر نے SPIR فیکلٹی اور طلباء کو مطالعاتی دوروں اور گہری مصروفیات کے لیے ایرانی سفارت خانے کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ سیشن کا باقاعدہ اختتام ڈاکٹر سید قندیل عباس کے شکریہ کے ساتھ کیا گیا، جنہوں نے تقریب کو کامیاب بنانے پر سفیر، فیکلٹی اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر رضا امیری مقدم میں ایران ایران کے انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔