افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی قبول نہیں( حافظ نعیم الرحمان)
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بامعنی مذاکرات کیے جائیں، خضدار میں اسکول بس پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت
ملک میں قیام امن حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے دونوں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بامعنی مذاکرات کیے جائیں۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز منصورہ سے جاری بیان کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں اسکول بس پر دہشت گردی کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہدا کے درجات کی بلندی، لواحقین کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا اور یہ بزدلی اور ظلم کی انتہا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اسے یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات سے ہر پاکستانی مضطرب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قیام امن حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے، امن کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور اسلام اور پاکستان دشمن عناصر ملوث ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اسکول بس حملے میں ملوث مجرموں اور ان کے پشت پناہوں کو منظرعام پر لائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل بامعنی مذاکرات کریں، افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی قابل قبول نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کی محرومیاں دور کی جائیں اور انہیں ان کے جائز حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔