Express News:
2026-06-03@01:56:24 GMT

دہشت گردی اور اسمگلنگ کا خاتمہ ضروری

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

وفاقی کابینہ نے معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص کی اعلیٰ حکمت عملی اور دلیرانہ قیادت کی بنیاد پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دشمن کو شکست دینے پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر (نشان امتیاز ملٹری) کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی۔

ادھر پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا رابطہ ہوا ہے، جس میں افواج کو فرنٹ لائن سے ہٹانے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ ادھر بدھ کے روز بلوچستان کے شہر خضدار میں بچوں کو اسکول لے جانے والی ایک بس پر خودکش حملے کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید اور 38 شدید زخمی ہوگئے۔

 بلاشبہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کا کریڈٹ سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر کو جاتا ہے، ان کی جدید جنگی حکمت عملی کے سبب بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، لٰہذا ان کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کو سراہا گیا ہے۔

ان کا اہم قومی امور کے حل میں انتہائی کلیدی کردار رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملک کی معیشت کی مضبوطی، خارجہ امور، دہشت گردی کے خاتمے، مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سمیت اہم ترین مسائل کے حل میں وفاقی حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا ہے۔ دوسری جانب پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے کے نتیجے میں افواج کو فرنٹ لائن سے ہٹانے پر اتفاق ہونا خوش آیند امر ہے،کیونکہ امن کا راستہ اختیار کرنے میں دونوں ممالک کے عوام کی بھلائی پوشیدہ ہے۔

 بلوچستان کے شہر خضدار میں دہشت گردوں کا اسکول کے معصوم طلبہ پر حملہ کرنا انسانیت سے گرا ہوا فعل ہے، ان درندہ صفت عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ دہشت گردوں نے پاکستان کے مختلف حصوں کو بارہا نشانہ بنایا ہے۔ چاہے وہ مساجد ہوں، تعلیمی ادارے، بازار، فوجی تنصیبات یا عام شہری، دہشت گردوں کے حملوں نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔ دہشت گردی محض ایک داخلی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی عوامل بھی کارفرما ہیں۔

بعض عالمی طاقتیں اور ہمسایہ ممالک پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے رہے ہیں، اور انھوں نے بعض علیحدگی پسند اور شدت پسند گروہوں کی پشت پناہی کر کے پاکستان میں عدم استحکام کو فروغ دیا ہے۔ ان گروہوں کو مالی، فکری اور عسکری معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

 بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشنز کیے جارہے ہیں، دہشت گرد سرحد پار چلے جاتے ہیں مگر افغانستان کا ان دہشت گردوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے یا وہ کنٹرول کرنا نہیں چاہتا۔ بلوچستان میں اکثر بسوں میں اسلحہ بردار نقاب پوش داخل ہوتے ہیں۔ بس میں سوار مسافروں کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اور جن کا شناختی کارڈ پنجاب کا ہو، انھیں قتل کردیتے ہیں جب کہ باقی مسافروں کو بس سمیت آگے جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے بعد ازاں ان افراد کی لاشیں ملتی ہیں۔

اب خضدار میں اسکول کے طلبہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ۔ میڈیا، سیاستدان، انسانی حقوق کی تنظیمیں اگرچہ بلوچستان میں گمشدہ افراد کے مسئلے پر بہت بات کرتی ہیں۔

اس پر دھرنے، لانگ مارچ اور مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں جس پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن بلوچستان میں دہشت گرد جو ظلم کررہے ہیں،ان کے بہیمانہ قتل و غارت پر سول سوسائٹی اور اہل علم کا رردعمل خاصا کمزور نظر آتا ہے۔ بلوچستان میںدہشت گردوں نے متعدد بے قصور ڈاکٹرز، پروفیسرز، اساتذہ، کاروباری افراد اور محنت کشوں کو قتل کیاہے،اب اسکول کے بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے، اس ظلم کو ظلم کہتے ہوئے کسی کو ہچکچاہٹ کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔

 افغانستان مسلسل دوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے ، افغانستان کی کسی حکومت نے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گینگز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کی ہے ۔ پاکستان میں ایک مخصوص لابی دہائیوں سے پاکستان کے مفادات کے برعکس افغانستان کے مخصوص گروہوں کے ساتھ ہم آہنگ چلی آرہی ہے۔پاکستان نے جب بھی افغانستان کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرنے کی تیاری کی تو اس لابی نے پاکستان کے سسٹم کو دباؤ میں لاکر کچھ نہیں کرنے دیا۔

کوئی ان سے پوچھے کہ کیا افغان سیاسی عمائدین اور ان کا کاروباری طبقہ بھی پاکستان کے حق میں ایسے ہی جذبات رکھتے ہیں؟ موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے بھارت اور افغانستان دونوں برابر ہیں۔ درحقیقت دہشت گردی کو ایک مناسب ڈھانچے میں تبدیل کردیا گیا ہے، بشمول منشیات جو یہاں تیار نہیں کی جاتی ہیں وہ افغانستان سے آتی ہیں۔ ہنڈی/ حوالہ کا نظام پاکستان، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے قائم ہے۔

یہ اتنے لمبے عرصے سے دہشت گردی کی مالی معاونت سمیت ہر طرح کے کالے دھن کو لانڈرنگ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ دہشت گرد گروہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ یہ بہت سے جائز کاروباروں میں کامیاب رہتا ہے اور ہمارے لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا ہے۔

جرائم کی زیادہ تر آمدنی غیر قانونی ذرائع سے ہوتی ہے، یعنی بدعنوانی، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی جوا اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں۔ طویل عرصے بعد لگا تار دہشت گردی کی کارروائیوں نے واضح کر دیا ہے کہ مبہم اور نیم دلانہ پالیسیوں سے کام نہیں چلے گا، ساتھ ہی بہت سارے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ایسے بہت سے سوال موجود ہیں جن کا جواب دوعملی کا چولا اتار کر سیاسی اور تزویراتی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر تلاش کرنا پڑے گا۔

 پاکستان میں اسمگلنگ اور بلیک منی ایک اہم مسئلہ ہے، اور اس کا ملکی معیشت پر اثر پڑتا ہے۔ اس پر طُرفہ تماشا یہ ہے کہ ملک میں موجود بدعنوان اور جرائم پیشہ عناصر طرح طرح سے ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے میں تیزی سے مصروف عمل ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اسمگلنگ ہے، اگرچہ معیشت کی تباہی میں اپنے حجم کے اعتبار سے اس کا حصہ دیگر بد اعمالیوں کے مقابلے میں کم نظر آتا ہے، لیکن اس کے اثرات کثیر الجہتی ہیں۔ اس سے ایک جانب قومی خزانے کو سالانہ کھربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو دوسری جانب بہت سی صنعتیں اور کاروبار اس کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں یا ہو رہے ہیں۔

جہاں دہشت گردی نے ملک کی سلامتی کو نشانہ بنایا، وہیں اسمگلنگ نے پاکستان کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہر سال اربوں روپے کا ٹیکس چوری ہو جاتا ہے کیونکہ اسمگلنگ شدہ اشیاء قانونی راستوں سے ملک میں داخل نہیں ہوتیں، جس کے باعث حکومت کی آمدنی کم ہوتی ہے۔ یہ آمدنی وہی ہے جس سے صحت، تعلیم، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے بجٹ مختص ہوتا ہے۔ جب ریاست کے مالی وسائل کم ہوں گے تو عوامی خدمات بھی متاثر ہوں گی، اور یوں ایک عام شہری ہی اس کا سب سے بڑا متاثر بنتا ہے۔

اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کی مقامی صنعتیں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ جب اسمگل شدہ سستی اشیاء بازار میں دستیاب ہوتی ہیں تو مقامی کارخانے اور کاروباری افراد ان کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً کارخانے بند ہو جاتے ہیں، بیروزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، اور معاشی بدحالی جنم لیتی ہے۔ اس کے علاوہ اسمگلنگ سے حاصل شدہ رقم غیرقانونی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے، جن میں منشیات کی خرید و فروخت، غیرقانونی ہتھیاروں کی ترسیل، اور بعض اوقات دہشت گردی کی فنڈنگ بھی شامل ہوتی ہے۔ دہشت گردی اور اسمگلنگ کے پیچھے بعض اوقات وہی عناصر ہوتے ہیں جو ریاستی نظام میں شامل ہو کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں۔ یہ ریاستی نظام کی کمزوری اور بدعنوانی کا ثبوت ہے، جو ان مسائل کو مزید سنگین بناتا ہے۔

 اداروں کے مابین بہتر رابطہ کاری کی بھی ضرورت ہے۔ ادارہ جاتی اصلاحات اور انفورسمنٹ کے نظام کو جدید بنانا ناگزیر ہے تاکہ پاکستان معاشی لحاظ سے ایک پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ سکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اور صرف ہماری ہے، ملک اور نسل کی بقا کی جنگ، اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

دانش مندانہ اور فلسفیانہ موشگافیوں سے نکل کر حقیقت سے آنکھیں چار کرنی ہوں گی۔ نظام میں اصلاحات کا کام سویلین حکومت اور پارلیمنٹ کا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر نیک نیتی سے قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور اس کی تائید و عملی شراکت سے اس سمت میں پیشِ رفت کی جائے تو حالات جلد تبدیل ہوسکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کا بالائے طاق رکھ کر بلوچستان میں دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف بھرپور آپریشن کرکے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بلوچستان میں نشانہ بنایا پاکستان کے ہوتی ہے اور اس کیا ہے ملک کی گیا ہے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی