WE News:
2026-06-03@04:36:43 GMT

کیا روس کے بعد پاکستان بھی افغانستان کو تسلیم کر سکتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

کیا روس کے بعد پاکستان بھی افغانستان کو تسلیم کر سکتا ہے؟

روس نے حال ہی میں افغانستان میں قائم طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے جس کو خطے کے لیے ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جمعے کو یہی سوال جب پاکستان دفتر خارجہ ترجمان شفقت علی خان کے سامنے رکھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے روس کی جانب سے کابل میں حکومت کو تسلیم کیے جانے کی خبر دیکھی ہے، روس اس خطے کا اہم ملک ہے اور یہ 2 خودمختار ممالک کا باہمی معاملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے افغان طالبان کی حکومت باضابطہ طور پر تسلیم کرلی

سفارتی ماہرین اسے ایک بہت بڑی اور خوش آئند پیشرفت قرار دے رہے ہیں جو خطے کا اقتصادی مستقبل سنوارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

6 اہم ممالک کے افغان طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات

اس وقت چین، پاکستان، ایران، ازبکستان، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے افغان ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ممکنہ عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں یہ ممالک افغان طالبان حکومت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔

چین

چین نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔ دسمبر 2023 میں چین نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے بیجنگ میں سفیر تعیّنات کرنے کی منظوری دی جو ایک بڑی سفارتی پیشرفت تھی لیکن چین نے اس کے بعد بھی باقاعدہ طور پر افغان طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق چین روس کو فالو کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے۔

پاکستان

15 اگست 2021 افغان طالبان حکومت کے برسر اقتدار آنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہت زیادہ خراب رہے لیکن اس کے باوجود اکتوبر 2021 میں افغان حکومت کا اسلام آباد میں سفارتخانہ کھولا گیا۔ افغانستان کی جانب سے دہشتگرد حملوں کی سہولت کاری کے الزامات پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہت کشیدہ رہے اور پھر ستمبر 2023 میں نگران حکومت نے پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا تو اس پر بھی افغان طالبان حکومت کا شدید رد عمل آیا۔ لیکن اس سال 19 اپریل کو نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا دورہ کابل اور اس کے بعد 21 مئی کو بیجنگ میں پاکستان چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے بعد صورتحال میں خاصا بدلاؤ آیا۔ اس کے بعد پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں باقاعدہ سفیر تعیّنات کیے اور تجارتی معاہدے بھی کیے۔

مزید پڑھیے: روس کھل کر امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی مدد کرے، خامنہ ای کی پیوٹن سے اپیل

دہشتگردی کے معاملے پر اب بھی پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تحفظات چلے آ رہے ہیں اور جمعے کو بھی ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہمارے افغانستان سے باہمی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔

ان تعلقات میں ہم مسلسل دہشتگردی کا معاملہ اپنے افغان دوستوں کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشتگردی ہے اور ہندوستان اس دہشتگردی میں ملوث ہے۔

متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات نے بھی افغان طالبان حکومت کی جانب سے سفیر کی تعیناتی کو قبول کیا تھا جو کہ ایک طرح سے ڈی فیکٹو تسلیم کیا جانا شمار ہو سکتا ہے۔

ازبکستان، ایران اور ترکیہ

ازبکستان نے سنہ 2021 میں طالبان سفیر کو اپنے ہاں تاشقند میں متعین کیا اور پھر دسمبر 2023 میں طالبان کو دہشتگردوں کی فہرست سے خارج کیا۔

اس کے علاوہ ترکیہ اور ایران کے بھی افغانستان کے ساتھ اسی نوعیت کے سفارتی تعلقات ہیں۔

دیگر ممالک بھی تسلیم کر لیں تو سالوں سے رکے منصوبے شروع ہو سکتے ہیں، ایمبیسیڈر مسعود خان

پاکستان کے اقوام متحدہ میں سابق مستقل نمائندے اور امریکا میں سابق سفیر ایمبیسیڈر مسعود خان نے وی نیوز سے گفتگو کے دوران اسے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے اہم پیشرفت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ روس کے اس اقدام کی کئی دیگر ممالک بھی پیروی کریں گے خاص طور پر خطّے کے وہ ممالک جو اس حوالے سے جھجھک کا شکار تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کا کابل ملاقات میں ہونے والے فیصلوں پر جلد عملدرآمد پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ سنہ 2021 کے بعد سے افغان طالبان حکومت نے وہاں بہت سے ٹیکسز نافذ کیے ہیں، بجٹ کے بغیر دیے ہیں، اب ان کا حق بنتا ہے کہ ان کو تسلیم کیا جائے اور باقی ممالک بھی تقلید کریں گے۔ اس سے افغانستان کو بین الاقوامی سطح پر نمائندگی ملے گی اور اُس کی اقوام متحدہ کی رکنیت کے لیے بھی راہ ہموار ہو گی۔ اس پیشرفت سے خطہ معاشی ترقی کرے گا اور سالوں سے رکے ہوئے کاسا ون اور ترکمانستان۔افغانستان۔پاکستان۔انڈیا (تاپی) جیسے اقتصادی منصوبے روبہ عمل آئیں گے اور سب سے اہم بات کہ مشترکہ کوششوں سے خطّے میں دہشت گردی کو ختم کیا جا سکے گا۔

پاکستان چند اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد ہی افغانستان کو تسلیم کر سکتا ہے، ایمبیسیڈر مسعود خالد

پاکستان کے سابق سینیئر سفارتکار ایمبیسیڈر مسعود خالد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی فیکٹو طور پر تو چین اور ترکیہ نے بھی تسلیم کیا ہوا ہے لیکن روس نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جو کہ ایک اہم بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور ایک انتہائی اہم ملک ہے اور اس کی جانب سے افغان طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ایک اہم پیشرفت ہے، ممکنہ طور پر وہ ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو ختم کرنا چاہتا ہو اور پھر اس کے اپنے ہاں بھی چیچنیا میں ایسے عناصر موجود ہیں جو طالبان سے مشابہہ ہیں لیکن عمومی طور پر دیکھا جائے تو روس خطے میں استحکام لانا چاہتا ہے۔ روس کی پیچھے دیگر ممالک بھی اس بارے پیشرفت کرنا چاہتے ہیں لیکن اقوام متحدہ میں طالبان سے متعلق معاملات اس سلسلے میں رکاوٹ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور افغانستان: تاریخ، تضاد اور تعلقات کی نئی کروٹ

مسعود خالد نے کہا کہ پاکستان کے بھی افغان طالبان حکومت کے ساتھ ڈی فیکٹو تعلقات تو موجود ہیں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ہاں سفیر تعیّنات کیے ہوئے ہیں لیکن پاکستان اگر تسلیم کرے گا تو اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد ہی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان افغانستان کو تسلیم کرنا پاکستان چین روس متحدہ عرب امارات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان افغانستان کو تسلیم کرنا پاکستان چین متحدہ عرب امارات افغان طالبان حکومت کو تسلیم پاکستان اور افغانستان افغانستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات ایمبیسیڈر مسعود افغانستان کو ان کو تسلیم کو تسلیم کر پاکستان کے کی جانب سے بھی افغان تسلیم کیا ممالک بھی ان تعلقات نے افغان سکتا ہے کے بعد کہا کہ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم