پاکستان کا بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دیکر ملک چھوڑنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ قرار دے دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان کی جانب سے یہ اقدام بدھ کو بھارت کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اور اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق بھارتی سفارتی اہلکار مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھا، پاکستان نے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی، بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ بلا کر فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔
واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے میں اسرائیلی سفارتخانے کے دو اہلکار ہلاک
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ کسی بھارتی سفارت کار یا اہلکار کو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ پاکستانی ناظم الامور کو اس حوالے سے ڈی مارش کیا گیا تھا۔
پاکستان نے بھی پاکستان کے بھارتی سفارتی اہلکارکو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنےکا حکم دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اہلکار کو ناپسندیدہ کر ملک چھوڑنے ہائی کمیشن کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔