بھارت کی مختلف ریاستوں میں 25 مردوں سے شادی کر کے ان کا قیمتی سامان، زیورات اور نقدی لے کر فرار ہونے والی ایک 23 سالہ خاتون انورادھا پاسوان کو راجستھان پولیس نے بھوپال سے گرفتار کرلیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انورادھا کو پولیس نے “لوٹ اینڈ اسکوٹ دلہن” کا لقب دیا ہے، جو ایک منظم شادی فراڈ گروہ کی رکن ہے، یہ گروہ ان مردوں کو نشانہ بناتا ہے جو شادی کے خواہش مند اور معاشرتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں۔

تفتیشی افسر کے مطابق انورادھا قانونی دستاویزات کے ساتھ کورٹ میرج کرتی، کچھ دن شوہر کے ساتھ رہتی اور پھر ایک رات چپکے سے زیورات، نقدی، اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو جاتی۔

یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب وشنو شرما نامی شخص نے 3 مئی کو پولیس میں شکایت درج کروائی۔

اس نے بتایا کہ اس نے شادی کروانے والے ایجنٹس سُنيتا اور پپو مینا کو 2 لاکھ روپے دیے، شادی 20 اپریل کو کورٹ میں ہوئی مگر انورادھا 2 مئی کو گھر کا سارا قیمتی سامان لے کر غائب ہوگئی۔

انورادھا ماضی میں اترپردیش کے مہاراج گنج کے ایک اسپتال میں کام کرتی تھی، شوہر سے گھریلو جھگڑے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوئی، جہاں اس نے شادی فراڈ گینگ میں شمولیت اختیار کی، یہ گروہ واٹس ایپ پر دلہنوں کی تصاویر بھیج کر مردوں کو پھنساتا اور ان سے 2 سے 5 لاکھ روپے تک وصول کرتا تھا۔

تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ وشنو شرما سے فراڈ کے بعد انورادھا نے بھوپال میں گبّار نامی شخص سے بھی شادی کی اور اس سے بھی 2 لاکھ روپے لے کر فرار ہوگئی۔

پولیس کے مطابق اس فراڈ میں کئی اور افراد بھی ملوث ہیں اور تمام ملزمان کا تعلق بھوپال کے مختلف علاقوں سے ہے۔

پولیس نے ایک کانسٹیبل کو فرضی دلہا بنا کر ایجنٹوں سے رابطہ کروایا، جیسے ہی انورادھا کی تصویر شیئر کی گئی، پولیس نے فوری کارروائی کر کے اسے گرفتار کر لیا۔

اس کیس نے بھارت بھر میں ڈیجیٹل میرج فراڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور معاشرتی دباؤ میں شادی کے خواہش مند افراد کے استحصال پر گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔

پولیس کا ماننا ہے کہ اس گروہ نے ملک بھر میں کئی افراد کو دھوکا دیا اور مزید متاثرین کی تلاش جاری ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پولیس نے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا