اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 مئی2025ء) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)نے کہاہے کہ عالمی مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی بانڈ مارکیٹس کا مستحکم اور مؤثر طریقے سے چلنا نہایت ضروری ہے۔ یہ بات آئی ایم ایف کی عالمگیرمالیاتی استحکام رپورٹ میں کہی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں حکومتی بانڈز کی منڈیوں نے شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود مزاحمت دکھائی ہے، تاہم ان کی طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتی بانڈز مالیاتی نظام کی بنیاد ہیں۔ ان کے منافع سے نہ صرف معاشی توقعات کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ دیگر مالیاتی آلات، جیسے کہ کارپوریٹ بانڈز، ہاؤسنگ لونز اور ڈیویویٹوز کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ برسوں میں بانڈ مارکیٹس میں ڈیلر (خصوصاً بینکوں سے وابستہ پرائمری ڈیلرز) کا کردار کمزور ہوا ہے کیونکہ ان کے بیلنس شیٹس میں حکومتی بانڈز کی مقدار تو بڑھی ہے تاہم وہ مارکیٹ کے مجموعی حجم کے حساب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میوچوئل فنڈز، ہیج فنڈز، اور پرنسپل ٹریڈنگ فرمز جیسے نان بینک مالیاتی ادارے اب مارکیٹ میں نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ مارکیٹ سازی جیسے اہم کردار بھی ادا کر رہے ہیں، تاہم ان اداروں کے پاس اکثر حکومتی بانڈ مارکیٹ کی مدد کرنے کی قانونی ذمہ داری نہیں ہوتی ۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حکومتی بانڈ بانڈ مارکیٹ

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری