خضدار سانحہ: معصوم بچیوں پر حملہ انسانیت سوز عمل ہے، سینیٹر عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان صدیقی نے خضدار میں معصوم طالبات پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری عمر الفاظ کے ساتھ تعلق رہا ہے، مگر خضدار کے المناک سانحے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ انتہائی دل دہلا دینے والے واقعے میں معصوم بچیوں کو خون میں نہلا دیا گیا۔ ایسے سفاک اور درندہ صفت عناصر کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں؟ یہ کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کے پیچھے بھارتی ہاتھ پوشیدہ نہیں بلکہ عیاں ہے۔ بھارت ان عناصر کو اسلحہ، مالی امداد اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی چہرے کو جانتے ہیں، جو بزدل، کینہ پرور اور نفرت انگیز ذہنیت کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں، اسکولوں اور ٹرینوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد کسی بھی صورت انسانی حقوق کے دعویدار نہیں ہو سکتے۔ ایسے تمام عناصر کو سختی سے کچلنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام بحال ہو سکے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :