Daily Pakistan:
2026-06-03@05:31:42 GMT
بانی پی ٹی آئی نے تیسری مرتبہ پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے تیسری مرتبہ پولی گراف ٹیسک کرانے سے انکار کردیا،لاہور پولیس کی تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل سےواپس روانہ ہو گئی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ لاہور پولیس کی تفتیشی ٹیم ڈی ایس پی آصف جاوید کی سربراہی میں اڈیالہ جیل پہنچی تھی،تفتیشی ٹیم بانی پی ٹی آئی کا 9مئی کے کیسز میں پولی گرافک ٹیسٹ کرنے آئی تھی،لاہور پولیس تین روز سے بانی پی ٹی آئی کا پولی گرافک، فوٹو گرامیٹک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرنے آ رہی ہے،چیئرمین پی ٹی آئی نے تیسری روز میں ٹیسٹ کرانے سے انکار کردیا۔
’’بچے محفوظ پنجاب محفوظ‘‘ کم سن بچوں کی حفاظت کیلئے آگاہی مہم لانچ کر دی گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔