کیپٹو پاورپلانٹس کودی جانے والی گیس پرلیوی عائد کرنے کا بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 مئی ۔2025 )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم نے کیپٹو پاور پلانٹس کو دی جانے والی گیس پر لیوی عائد کرنے کا بل منظور کر لیا چیئرمین کمیٹی سیدمصطفی محمودکی زیر قیادت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا،قائمہ کمیٹی اجلاس میں آف دی گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس لیوی بل زیربحث آیا،رکن کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے کہا کے الیکٹرک سمیت تمام کمپنیاں جوکمٹمنٹ کریں وہ پوری ہونی چاہیے،کےالیکٹرک کو بھی اجلاس میں بلایا جانا چاہیے،حکومت نے ہمیشہ بہت زیادہ سستی کا مظاہرہ کیا ہے،ہم نے ان بجلی کمپنیوں کو بلا کر بات کیوں نہیں کی،بڑی کمپنیوں کے نمائندے آتے ہیں بات کرکے چلے جاتے ہیں.
(جاری ہے)
حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس لگانے کی باقاعدہ مہم چلائی تھی جن کمپنیوں میں کیپٹو پاور پلانٹس لگانے کی سکت تھی انہوں نے لگا لیے صرف برآمدات کرنےوالی کمپنیوں کو پاور پلانٹس لگانے کی اجازت تھی،آگے لگ رہا ہے حکومت کیپٹو پاور پلانٹس کو پیسے نہیں دے گی،جنہوں نے اتنے اخراجات کیے انہیں کیسے سبسڈائز کریں گے. وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کیپٹو پاور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کا نہیں ہوسکتا،کیپٹو تو ایک مختلف کیٹگری ہے اس میں ایس ایم ای کا ہونا تو مشکل ہے رکن کمیٹی گل اصغر خان نے کہا جتنا بل پر شور مچا ہوا ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہے،چیئرمین کمیٹی مصطفی محمود نے کہا میں بھی بل کیپٹو پاور پلانٹس لیوی بل کی حمایت میں ہوں،میں سمجھتا ہوں کہ حکومت اپنے خلاف تو جا نہیں سکتی بعدازاں قائمہ کمیٹی پٹرولیم نے کیپٹو پاور پلانٹس کودی جانے والی گیس پر لیوی عائد کر نے کا بل منظور کرلیا،کمیٹی ارکان کی اکثریت نے بل کے حق میں ووٹ دیا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کیپٹو پاور پلانٹس قائمہ کمیٹی پلانٹس کو نے کہا
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔