گلگت بلتستان اسمبلی، محکمہ خزانہ کیخلاف تحریک استحقاق کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
سپیکر نے کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ وہ مکمل تفصیلات کا بغور جائزہ لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی سفارشات مرتب کریں۔ اسلام ٹائمز۔ سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نے محکمہ خزانہ کے خلاف تحریک استحقاق کی کاروائی کی منظوری دے دی۔ سپیکر نزیر احمد ایڈووکیٹ نے گلگت بلتستان اسمبلی کے 36 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسمبلی کی فنانس کمیٹی کے اختیارات میں مداخلت اور کمیٹی کے نوٹیفکیشنز کو محکمہ خزانہ کی جانب سے چیلنج کرنے کے معاملے پر اسے ممبران اسمبلی کے استحقاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تحریک استحقاق کی کارروائی کی باقاعدہ منظوری دی اور معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سپیکر نے کمیٹی کے چیئرمین امجد حسین ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ وہ مکمل تفصیلات کا بغور جائزہ لیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی سفارشات مرتب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی کی خودمختاری اور کمیٹیوں کے آئینی و قانونی اختیارات کا تحفظ کیا جائے گا اور کسی بھی ادارے کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ سپیکر نے کہا کہ اسمبلی کی کارروائیوں میں رکاوٹ یا غیر ضروری مداخلت ناقابل برداشت ہے، اور اس حوالے سے آئندہ کے لیے واضح لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استحقاق کی کمیٹی کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔