لیڈیزملبوسات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کامعاملہ قومی اسمبلی پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز)خواتین کے ملبوسات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ قومی اسمبلی میںزیربحث آگیا.
خواتین کے ملبوسات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی پریشانی کے بعد یہ معاملہ بالآخر قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آ گیا۔
ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ برینڈز کے نام پر مقامی ٹیکسٹائل مالکان نے اپنی مرضی سے نرخ بڑھا دیے ہیں جس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لیڈیز سوٹ چند ماہ قبل 7 سے 8 ہزارروپے میں دستیاب تھا آج وہی ملبوسات 20 ہزار روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ “جو گھر سے اٹھتا ہے، وہ کپڑوں کا برینڈ بنا کر مارکیٹ میں آ جاتا ہے۔”
پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار بھٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوکل مارکیٹ اورریٹیل سیکٹر پرحکومت کا براہِ راست کنٹرول نہیں ہے، قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ توانائی یعنی بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہرکی کہ کپڑوں جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، اور حکومت کو اس مسئلے پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
واشنگٹن، اسرائیلی سفارتخانے کے 2 ملازمین کو گولی مار کر قتل کردیا، سکیورٹی ہائی الرٹ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔