لاہور:

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب بھر کے تمام سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس نصب کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس شاہد کریم نے اسموگ تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران پانی کے تحفظ سے متعلق اہم احکامات جاری کر دیے۔ عدالت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احکامات پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پانی کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیں مزید اقدامات کرنا ہونگے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ قصور میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تاحال غیر فعال ہے اور نجی کمپنی ایک سال گزرنے کے باوجود اسے بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس موقع پر محکمہ ماحولیات کے نمائندے علی اعجاز نے بتایا کہ پلانٹ کی بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

عدالت نے کمشنر لاہور سے آئندہ سماعت پر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قصور میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بندش سے بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور وہاں پیدا ہونے والے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

عدالت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قصور میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بحال کرنا ہوگا تاکہ ٹیریز کا پانی صاف کیا جا سکے۔

سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سی بی ڈی (CBD) نے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر ٹینک بنا لیا ہے، جسے روڈز کی صفائی اور پودوں کو پانی دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جسٹس شاہد کریم نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قابل تعریف قدم ہے۔

دوسری جانب، ای پی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ موٹروے پر فصلوں کی باقیات جلانے سے روکنے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں اور خلاف ورزی پر چالان بھی کیے جا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹریٹمنٹ پلانٹ عدالت نے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا