سندھ: پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا 93 ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیوں کا مرحلہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
محکمۂ تعلیم سندھ میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا 93 ہزار سے زائد پرائمری اسکول ٹیچرز اور جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز کی بھرتیوں کا عمل مکمل کر لیا گیا۔
وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کامیاب امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ محکمۂ تعلیم کا حصہ بننے والے اساتذہ لگن اور ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھائیں گے، بھرتیوں کے بعد اگلا مرحلہ اساتذہ کی پروفیشنل تربیت کا ہو گا تاکہ تدریسی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی رہنمائی، سندھ حکومت کے سنجیدہ اقدامات اور محکمۂ تعلیم کے افسران کی کوششوں سے میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔
ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اعتماد کی بدولت اب سندھ کے اسکولوں میں قابل اور اہل اساتذہ فراہم کرنے کا ہدف حاصل کیا گیا ہے، اساتذہ بھرتی مرحلے کے دوران 93 ہزار 118 اساتذہ کو آفر لیٹرز جاری کیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تھرڈ پارٹی ٹیسٹ کے ذریعے میرٹ پر 65 ہزار 147 پرائمری اسکول ٹیچرز اور 27 ہزار 701 جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچرز کی بھرتی مکمل کی گئی جن میں 31 ہزار 75 خواتین اساتذہ کی بھرتی سے خواتین کو بااختیار بنانے کے سندھ حکومت کے اقدامات کو تقویت ملی ہے، جبکہ 1330 خصوصی افراد اور 2100 اقلیتی امیدوار بھی استاد بنے ہیں۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ نئے تقرر ہونے والے نئے اساتذہ سندھ کے 41 ہزار 129 اسکولز کا حصہ بنے ہیں، اساتذہ کی بھرتیوں سے 5000 سے زائد اسکول فعال ہوئے ہیں اور اب سندھ میں کوئی بھی وائبل اسکول استاد نہ ہونے کی وجہ سے بند نہیں رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان بھرتیوں کی بدولت دور رس اثرات آئندہ دنوں میں نظامِ تعلیم کی بہتری کی صورت میں نظر آئیں گے، امید ہے کہ محکمۂ اسکول ایجوکیشن سندھ کا حصہ بننے والے استاد ایک معتبر پیشے کی ذمے داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنی ڈیوٹی ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیں گے۔
وزیرِ تعلیم سندھ نے محکمے کے انسانی وسائل میں اضافے کے اعداد و شمار کو خوش آئند قرار دیا ہے اور تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے مارچ 2021ء میں تھرڈ پارٹی طریقہ کار کے تحت آئی بی اے سکھر کے ذریعے نوکریوں کا اشتہار جاری کیا گیا جس کے تحت ٹیسٹ ستمبر 2021ء میں منعقد کیے گئے۔
صوبائی وزیر نے اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ڈویژن کے حساب سے کراچی ڈویژن میں 7 ہزار 444 پی ایس ٹی اور 5 ہزار 643 جے ایس ٹی، حیدرآباد ڈویژن میں 17 ہزار 75 پی ایس ٹی اور 6 ہزار 904 جے ایس ٹی، سکھر ڈویژن میں 11 ہزار 619 پی ایس ٹی اور 4 ہزار 183 جے ایس ٹی، لاڑکانہ ڈویژن میں 11 ہزار 145 پی ایس ٹی اور 4 ہزار 34 جے ایس ٹی، میر پور خاص ڈویژن میں 7 ہزار 513 پی ایس ٹی اور 2 ہزار 916 جے ایس ٹی اور شہید بینظیر آباد ڈویژن میں 10 ہزار 261 پی ایس ٹی اور 4 ہزار 20 جے ایس ٹی بھرتی ہوئے ہیں، جبکہ بھرتیوں کے بعد اس وقت سندھ میں اسٹوڈنٹ ٹیچر مجموعی تناسب 34.
سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ قابل اساتذہ کے آنے سے اسکول کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے جبکہ طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ نئے مقرر ہونے والے اساتذہ میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد بھرتی ہوئے ہیں، جبکہ میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کی وجہ سے پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو ایک معتبر روزگار ملا ہے، ایک خاندان سے تعلق رکھنے والی 4 بیٹیوں نے اس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔
وزیرِ تعلیم نے کہا ہے کہ سندھ میں برسات اور سیلاب کی وجہ سے متاثر ہونے والے اسکولز کی بحالی کا کام جاری ہے، کچھ علاقوں میں سہولتوں کے حوالے سے اساتذہ کو چیلینجز درپیش ہیں جنہیں حل کرنے کی کوشش جاری ہے، ایسے استاد جو مشکلات کے باوجود اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں ان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔
سید سردار علی شاہ نے اعتماد دلاتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے، ہم بہتر تربیت اور سہولتوں کی فراہمی کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ استاد سکون اور اعتماد کے ساتھ اپنی ذمے داریاں ادا کر سکیں تا کہ تعلیمی میدان میں مثبت تبدیلی لائی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سید سردار علی شاہ نے پی ایس ٹی اور اسکول ٹیچرز ڈویژن میں اساتذہ کی جے ایس ٹی کہا ہے کہ کی بھرتی کے ساتھ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔