وفاقی وزیر صحت کی ڈبلیو ایچ او مشرقی بحیرہ روم کے ریجنل ڈائریکٹر سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ڈبلیو ایچ او مشرقی بحیرہ روم کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی سے ملاقات جس میں علاقائی سطح پر صحت کی ترجیحات، چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملاقات میں پاکستان ڈبلیو ایچ او کے درمیان موجودہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں فریقین کا صحت کے شعبے کو جدید خطوط استوار کرنے کیلیے قریبی شراکت داری کو وسعت دینے پر اور مؤثر ریگولیٹری فریم ورک، ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت اور دیگر نئی ٹیکنالوجی کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ملاقات کا مقصد عوام کو بہتر، مؤثر اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ھے۔ صحت کے شعبے میں ڈبلیو ایچ کی خدمات قابل تحسین ہیں جبکہ پاکستان عالمی اداروں کے تعاون سے قومی صحت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر صحت کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات مستقبل کی مضبوط شراکت داری کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگی۔
دوسری جانب ڈاکٹر حنان بلخی نے پاکستان کی صحت عامہ کے شعبے میں کوششوں کو سراہا اور بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ایچ
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔