شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کا کیس دوبارہ سماعت کیلئے کمپٹیشن کمیشن کو واپس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
اپیلٹ ٹریبونل نے شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کا کیس دوبارہ سماعت کےلیے کمپٹیشن کمیشن کو واپس بھجوا دیا۔
اپیلٹ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپٹیشن کمیشن 90 روز میں شوگر کارٹلز کیس کا فیصلہ کرے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا کہ کمپٹیشن کمیشن کی چیئر پرسن جوڈیشل کارروائی میں کاسٹنگ ووٹ استعمال نہیں کرسکتی، کمیشن کی چیئر پرسن نےکاسٹنگ ووٹ کے ذریعے 2، 2 سے برابر فیصلے کو اکثریت میں بدلا تھا اور اب کاسٹنگ ووٹ ختم ہونے سے پرانا فیصلہ دوبارہ 2، 2 سے برابر ہوگیا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ سے فیصلہ کو عدالت میں چلینج کر رکھا تھا۔
یاد رہے کہ2021ء میں شوگر ملز پر کارٹل بنانے اور قیمتیں فکس کرنے پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد ہوا تھا، دو ممبرز نے جرمانے کے حق میں جبکہ دیگر دو نے مخالفت میں فیصلہ دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔